تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 11
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام 11 سورة ال عمران بدر کی لڑائی کے وقت باوجود یکہ فتح کا وعدہ تھا بہت رو رو کر دعا کرتے رہے اور جناب الہی میں عاجزانہ یہ مناجات کی کہ: اللَّهُمَّ إِنْ أَهْلَكْتَ هُذِهِ الْعِصَابَةَ لَنْ تُعْبَدَ فِي الْأَرْضِ أَبَدًا " کیونکہ آپ اس سے ڈرتے تھے کہ شاید اس وعدہ کے اندر کوئی مخفی شرائط ہوں جو پوری نہ ہوسکیں۔ ہر کہ عارف ترست ترساں تر ۔ تتمہ حقیقة الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۵۷۲،۵۷۱) خدا تعالیٰ نے ابتدا سے وعید کے ساتھ یہ شرط لگا رکھی ہے کہ اگر چاہوں تو وعید کو موقوف کروں اس لئے قرآن میں یہ تو آیا ہے کہ : اِنَّ اللهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ اور یہ نہیں آیا کہ : إِنَّ اللَّهَ لَا يُخْلِفُ الْوَعِيدَ ۔ (کتاب البریہ، روحانی خزائن جلد ۱۳ ، صفحہ ۴۱) لوگ اس نعمت سے بے خبر ہیں کہ صدقات ، دعا اور خیرات سے رد بلا ہوتا ہے اگر یہ بات نہ ہوتی تو انسان زندہ ہی مر جاتا ۔ مصائب اور مشکلات کے وقت کوئی امید اس کے لئے تسلی بخش نہ ہوتی مگر نہیں ! اس نے لا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ فرمایا ہے ، لا يُخْلِفُ الْوَعِيدَ نہیں فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کے وعید معلق ہوتے ہیں جو دعا اور صدقات سے بدل جاتے ہیں اس کی بے انتہا نظیریں موجود ہیں ۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو انسان کی فطرت میں مصیبت اور بلا کے وقت دعا اور صدقات کی طرف رجوع کرنے کا جوش ہی نہ ہوتا۔ جس قدر راست باز اور نبی دنیا میں آئے ہیں خواہ وہ کسی ملک اور قوم میں آئے ہوں مگر یہ بات ان سب کی تعلیم میں یکساں ملتی ہے کہ اُنہوں نے صدقات اور خیرات کی تعلیم دی۔ اگر خدا تعالیٰ تقدیر کے محود اثبات پر قادر نہیں تو پھر یہ ساری تعلیم فضول ٹھہر جاتی ہے اور پھر ماننا پڑے گا کہ دعا کچھ نہیں اور ایسا کہنا ایک عظیم الشان صداقت کا خون کرنا ہے۔ اسلام کی صداقت اور حقیقت دعا ہی کے نکتہ کے نیچے مخفی ہے کیونکہ اگر دعا نہیں تو نماز بے فا و نماز بے فائدہ ، زکوة بے سود اور اسی طرح سب اعمال معاذ اللہ ! لغو ٹھہرتے ہیں۔ - الحکم جلدے نمبر ۱۳ ، مورخہ ۱۰ را پریل ۱۹۰۳ء صفحه ۳) مجھے افسوس آتا ہے کہ ہمارے مخالف مسلمان تو کہلاتے ہیں لیکن اسلام کے اُصول سے بے خبر ہیں ۔ اسلام میں یہ مسلم امر ہے کہ جو پیشگوئی وعید کے متعلق ہو اس کی نسبت ضروری نہیں کہ خدا اس کو پورا کرے یعنی جس پیشگوئی کا یہ مضمون ہو کہ کسی شخص یا گروہ پر کوئی بلا پڑے گی۔ اس میں یہ بھی ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ اس بلا کو ٹال دے جیسا کہ یونس کی پیشگوئی کو جو چالیس دن تک محدود تھی ٹال دیا لیکن جس یعنی اے میرے خدا! اگر تو نے اس گروہ کو ہلاک کر دیا تو پھر زمین پر کوئی تیری پرستش نہیں کرے گا۔