تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 456
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۵۶ سورة البقرة غَيْرَ بَاعٌ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ ( البقرۃ : ۱۷۴ ) ۔ جب اضطراری حالت میں محض اپنی جان بچانے کی خاطر سور کا کھانا جائز ہے تو کیا ایسی حالت میں کہ اسلام کی حالت بہت ضعیف ہو گئی ہے اور اس کی جان پر آبنی ہے، اس کی جان بچانے کے لئے محض اعلائے کلمہ اسلام کے لئے سود کا روپیہ خرچ نہیں ہو سکتا؟ میرے نزدیک یقیناً خرچ ہو سکتا ہے اور خرچ کرنا چاہئے ۔ الحکم جلد ۹ نمبر ۳۳ مورخه ۲۴ ستمبر ۱۹۰۵ صفحه ۱۰) میرا مذہب جس پر خدا نے مجھے قائم کیا ہے اور جو قرآن شریف کا مفہوم ہے وہ یہ ہے کہ اپنے نفس، عیال، اطفال، دوست عزیز کے واسطے اس سود کو مباح نہیں کر سکتے بلکہ یہ پلید ہے۔ اور اس کا گناہ (استعمال ) حرام ہے۔ لیکن اس ضعفِ اسلام کے زمانہ میں جبکہ دین مالی امداد کا سخت محتاج ہے اسلام کی مدد ضرور کرنی چاہئے ۔ جیسا کہ ہم نے مثال کے طور پر بیان کیا ہے کہ جاپانیوں کے واسطے ایک کتاب لکھی جاوے اور اور کسی کہ فصیح بلیغ جاپانی کو ایک ہزار روپیہ دے کر ترجمہ کرایا جائے ۔ اور پھر اس کا دس ہزار نسخہ چھاپ کر جاپان میں شائع کر دیا جاوے۔ ایسے موقع پر سود کا روپیہ لگانا جائز ہے کیونکہ ہر ایک مال خدا کا ہے اور اس طرح پر وہ ۔۔۔۔ خدا کے ہاتھ میں جائے گا ۔ مگر بایں ہمہ اضطرار کی حالت میں ایسا ہوگا اور بغیر اضطرار یہ بھی جائز نہیں ۔ ہمارا منشاء صرف یہ ہے کہ اضطراری حالت میں جب خنزیر کھانے کی اجازت نفسانی ضرورتوں کے واسطے جائز ہے تو اسلام کی ہمدردی کے واسطے اگر انسان دین کو ہلاکت سے بچانے کے واسطے سُود کے روپے کو خرچ کرلے تو کیا قباحت ہے؟ یہ اجازت مختص المقام اور مختص الزمان ہے۔ یہ نہیں کہ ہمیشہ کے واسطے اس پر عمل کیا جائے۔ جب اسلام کی نازک حالت نہ رہے تو پھر اس ضرورت کے واسطے بھی سود لینا ویسا ہی حرام ہے کیونکہ دراصل شود کا عام حکم تو حرمت ہی ہے۔ ( بدر جلد نمبر ۲۶ مورخه ۲۹ ستمبر ۱۹۰۵ ء صفحه ۴) ایک صاحب کا ایک خط حضرت اقدس کی خدمت میں پہنچا کہ جب بنکوں کے سود کے متعلق حضور نے اجازت دی ہے کہ موجودہ زمانہ اور اسلام کی حالت کو مد نظر رکھ کر اضطرار کا اعتبار کیا جائے تو اضطرار کا اصول چونکہ وسعت پذیر ہے اس لئے ذاتی، قومی، ہلکی ، تجارتی وغیرہ اضطرارت بھی پیدا ہو کر شود کا لین دین جاری ہو سکتا ہے یا نہیں۔ فرمایا : اس طرح سے لوگ حرام خوری کا دروازہ کھولنا چاہتے ہیں کہ جو جی چاہے کرتے پھریں۔ ہم نے یہ نہیں کہا کہ بینک کا شود به سبب اضطرار کے کسی انسان کو لینا اور کھانا جائز ہے بلکہ اشاعت اسلام میں اور دینی ضروریات میں اس کا خرچ جائز ہونا بتلایا گیا ہے۔ وہ بھی اُس وقت تک کہ امداد دین کے واسطے رو پیدل نہیں