تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 457
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۵۷ سورة البقرة سکتا اور دین غریب ہو رہا ہے کیونکہ کوئی شے خدا کے واسطے تو حرام نہیں ۔ باقی رہی اپنی ذاتی اور ملکی اور قومی اور تجارتی ضروریات ، سوان کے واسطے اور ایسی باتوں کے واسطے سُود بالکل حرام ہے ۔ وہ جواز جو ہم نے بتلایا ہے وہ اس قسم کا ہے کہ مثلاً کسی جاندار کو آگ میں جلانا شرعاً منع ہے لیکن ایک مسلمان کے واسطے جائز ہے کہ اس زمانہ میں اگر کہیں جنگ پیش آوے تو توپ بندوقوں کا استعمال کرے کیونکہ دشمن بھی اس کا استعمال کر رہا ہے۔ ( بدر جلدے نمبر ۵ مورخه ۶ رفروری ۱۹۰۸ ء صفحه ۷ ) جو شخص اللہ کے حکم کو توڑتا ہے اسے سزا ملتی ہے۔ خدا تعالیٰ نے پہلے فرمادیا کہ اگر شود کے لین دین سے باز نہ آؤ گے تو لڑائی کا اعلان ہے۔ خدا کی لڑائی یہی ہے کہ ایسے لوگوں پر عذاب بھیج دیتا ہے۔ پس یہ مفلسی بطور عذاب اور اپنے کئے کا پھل ہے۔ ( بدر جلدے نمبر ۵ مورخه ۶ رفروری ۱۹۰۸ و صفحه ۶،۵ ) اس شخص نے کہا کیا کریں مجبوری سے سودی قرضہ لیا جاتا ہے۔ فرمایا: جو خدا تعالیٰ پر تو گل کرتا ہے خدا اس کا کوئی سبب پردہ غیب سے بنا دیتا ہے۔ افسوس ! کہ لوگ اس راز کو نہیں سمجھتے کہ متقی کے لئے خدا تعالیٰ کبھی ایسا موقع نہیں بنا تا کہ وہ سودی قرضہ لینے پر مجبور ہو۔ یا درکھو! جیسے اور گناہ ہیں مثلاً زنا، چوری ایسے ہی یہ شود دینا اور لینا ہے۔ کس قدر نقصان دہ یہ بات ہے کہ مال بھی گیا، حیثیت بھی گئی اور ایمان بھی گیا۔ معمولی زندگی میں ایسا کوئی امر ہی نہیں کہ جس پر اتنا خرچ ہو جو انسان شودی قرضہ لینے پر مجبور ہو۔ مثلاً نکاح ہے اس میں کوئی خرچ نہیں۔ طرفین نے قبول کیا اور نکاح ہو گیا۔ بعد ازاں ولیمہ سنت ہے۔ سو اگر اس کی استطاعت بھی نہیں تو یہ بھی معاف ہے۔ انسان اگر کفایت شعاری سے کام لے تو اس کا کوئی بھی نقصان نہیں ہوتا۔ بڑے افسوس کی بات ہے کہ لوگ اپنی نفسانی خواہشوں اور عارضی خوشیوں کے لئے خدا تعالیٰ کو ناراض کر لیتے ہیں جو ان کی تباہی کا موجب ہے۔ دیکھو! شود کا کس قدر سنگین گناہ ہے؟ کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں ؟ سور کا کھانا تو بحالت اضطرار جائز رکھا ہے چنانچہ فرماتا ہے : فَمَنِ اضْطُرَ غَيْرَ بَاغِ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ إِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَّحِيمُ (البقرۃ : ۱۷۴) یعنی جو شخص باغی نہ ہو اور نہ حد سے بڑھنے والا تو اس پر کوئی گناہ نہیں اللہ غفور رحیم ہے۔ مگر سود کے لئے نہیں فرمایا کہ بحالت اضطرار جائز ہے بلکہ اس کے لئے تو ارشاد ہے يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرَّبُوا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ فَإِنْ لَّمْ تَفْعَلُوا فَأَذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللهِ وَ رَسُولِهِ ۔ اگر سُود کے لین دین سے باز نہ آؤ گے تو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کا اعلان ہے۔ ہمارا تو یہ مذہب ہے کہ جو خدا تعالیٰ پر توکل کرتا ہے اُسے حاجت