تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 455 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 455

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۵۵ سورة البقرة قرآن شریف کے مفہوم کے موافق جو حرمت ہے وہ یہی ہے کہ وہ اپنے نفس کے لئے اگر خرچ ہو تو حرام ہے یہ بھی یاد رکھو! جیسے سود اپنے لئے درست نہیں ، کسی اور کو اس کا دینا بھی درست نہیں ۔ ہاں خدا تعالیٰ کے قبضہ میں ایسے مال کا دینا درست ہے اور اس کا یہی طریق ہے کہ وہ صرف اشاعتِ اسلام میں خرچ ہو۔ اس کی ایسی مثال ہے جیسے جہاد ہورہا ہو اور گولی بارود کسی فاسق فاجر کے ہاں ہو اس وقت محض اس خیال سے ٹک جانا کہ یہ گولی بارود مال حرام ہے ٹھ بارود مال حرام ہے ٹھیک نہیں ۔ بلکہ مناسب یہی ہوگا کہ اس کو خرچ کیا جاوے۔ اس وقت تلوار کا جہاد تو باقی نہیں رہا اور خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے ہمیں ایسی گورنمنٹ دی ہے جس نے ہر ایک قسم کی مذہبی آزادی عطا کی ہے۔ اب قلم کا جہاد باقی ہے اس لئے اشاعت دین میں ہم اس کو خرچ کر سکتے ہیں۔ الحکم جلد ۹ نمبر ۳۳ مورخه ۲۴ ستمبر ۱۹۰۵ صفحه ۹) ہمارا مذہب یہ ہے کہ شود کاروپیہ بالکل حرام ہے کہ کوئی شخص اُسے اپنے نفس پر خرچ کرے اور کسی قسم کے بھی ذاتی مصارف میں خرچ کرے یا اپنے بال بچے کو دے یا کسی فقیر مسکین کو دے کسی ہمسایہ کو دے یا مسافر کو دے سب حرام ہے۔ سود کے روپیہ کا لینا اور خرچ کرنا گناہ ہے۔ ( بدر جلد ا نمبر ۲۶ مورخه ۲۹ ستمبر ۱۹۰۵ء صفحه (۴) شود کار و پیه تصرف ذاتی کے واسطے نا جائز ہے۔ لیکن خدا کے واسطے کوئی شے حرام نہیں۔ خدا کے کام میں جو مال خرچ کیا جائے وہ حرام نہیں ہے۔ اس کی مثال اس طرح سے ہے کہ گولی بارود کا چلانا کیسا ہی ناجائز اور گناہ ہو۔ لیکن جو شخص اُسے ایک جانی دشمن پر مقابلہ کے واسطے نہیں چلاتا وہ قریب ہے کہ خود ہلاک ہو جائے۔ کیا مر نام خدا خدا نے نہیں فرمایا کہ تین دن کے بھوکے کے واسطے سوز بھی حرام نہیں بلکہ حلال ہے؟ پس شود کا مال اگر ہم ؟ کے لئے لگا ئیں تو پھر کیوں کر گناہ ہو سکتا ہے اس میں مخلوق کا حصہ نہیں۔ لیکن اعلائے کلمہ اسلام میں اور اسلام کی جان بچانے کے لئے اس کا خرچ کرنا ہم اطمینان اور شلج قلب سے کہتے ہیں کہ یہ بھی فَلَا اثْمَ عَلَيْهِ (البقرۃ: ۱۷۴) میں داخل ہے۔ یہ ایک استثناء ہے۔ اشاعت اسلام کے واسطے ہزاروں حاجتیں ایسی پڑتی ہیں ( بدر جلد ا نمبر ۲۶ مورخه ۲۹ ستمبر ۱۹۰۵ء صفحه (۴) جن میں مال کی ضرورت ہے۔ اشاعت اسلام کے لئے روپیہ کی ضرورت ہے اور اس پر اگر وہ روپیہ جو بنکوں کے سود سے آتا ہے خرچ کیا جاوے تو جائز ہے کیونکہ وہ خالص خدا کے لئے ہے۔ خدا تعالیٰ کے لئے وہ حرام نہیں ہے جیسے میں نے ابھی کہا ہے کہ کسی جگہ کا سکہ و بارود ہو وہ جہاد میں خرچ کرنا جائز ہے۔ یہ ایسی باتیں ہیں کہ بلا تکلف سمجھ میں آ جاتی ہیں کیونکہ بالکل صاف ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے سور کو حرام کیا ہے لیکن بایں ہمہ فرماتا ہے : فَمَنِ اضْطَر