تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 454
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام لد ولد سورة البقرة سال کے بعد وہ سکھ دو ہزار چھ سور و پیر ان کو منافع کا دے دیا کرے گا۔ یہ اس غرض سے یہاں فتوی دریافت کرنے آئے ہیں کہ یہ روپیہ جو ان کو سال کے بعد ملے گا اگر سود نہ ہو تو شراکت کر لی جاوے۔ حضرت اقدس نے فرمایا: کہ چونکہ انہوں نے خود بھی کام کرنا ہے اور ان کی محنت کو دخل ہے اور وقت بھی صرف کریں گے۔ اس لئے ہر ایک شخص کی حیثیت کے لحاظ سے اس کے وقت اور محنت کی قیمت ہوا کرتی ہے۔ دس دس ہزار اور دس دس لاکھ روپیہ لوگ اپنی محنت اور وقت کا معاوضہ لیتے ہیں۔ لہذا میرے نزدیک تو یہ روپیہ جو ان کو وہ دیتا ہے سود نہیں ہے اور میں اس کے جواز کا فتویٰ دیتا ہوں ۔ سود کا لفظ تو اُس روپیہ پر دلالت کرتا ہے جو مفت بلا محنت کے (صرف روپیہ کے معاوضہ میں ) لیا جاتا ہے۔ اب اس ملک میں اکثر مسائل زیروز بر ہو گئے ہیں ، کل تجارتوں میں ایک نہ ایک حصّہ سُود کا موجود ہے۔ اس لئے اس وقت نئے اجتہاد کی ضرورت ہے۔ بینک کے سود کے متعلق فرمایا : (البدر جلد ۳ نمبر ۴۱، ۴۲ مورخه یکم و ۸ رنومبر ۱۹۰۴ صفحه ۸ ) ہمارا یہی مذہب ہے اور اللہ تعالی نے یہی ہمارے دل میں ڈالا ہے کہ ایسا روپیہ اشاعت دین کے کام میں خرچ کیا جاوے۔ یہ بالکل سچ ہے کہ سود حرام ہے لیکن اپنے نفس کے واسطے اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں جو چیز جاتی ہے وہ حرام نہیں رہ سکتی ہے کیونکہ حرمت اشیاء کی انسان کے لئے ہے نہ اللہ تعالیٰ کے واسطے۔ پس شود اپنے نفس کے لئے ، بیوی بچوں ، احباب رشتہ داروں اور ہمسایوں کے لئے بالکل حرام ہے۔ لیکن اگر یہ روپیہ خالصہ اشاعت دین کے لئے خرچ ہو تو ہرج نہیں ہے خصوصاً ایسی حالت میں کہ اسلام بہت کمزور ہو گیا ہے اور پھر اس پر دوسری مصیبت یہ ہے کہ لوگ زکوۃ بھی نہیں دیتے۔ میں دیکھتا ہوں کہ اس وقت دو مصیبتیں واقع ہو رہی ہیں اور دو حرمتیں روا رکھی گئی ہیں ؛ اول یہ کہ زکوۃ جس کے دینے کا حکم تھا وہ دیتے نہیں اور سود جس کے لینے سے منع کیا تھا وہ لیتے ہیں ۔ یعنی جو خدا تعالیٰ کا حق تھا وہ تو دیا نہیں اور جوا اپنا حق نہ تھا اسے لیا گیا۔ جب ایسی حالت ہو رہی ہے اور اسلام خطرناک ضعف میں مبتلا ہے تو میں یہی فتویٰ دیتا ہوں کہ ایسے سودوں کی رقمیں جو بنک سے ملتا ہے یک مشت اشاعت دین میں خرچ کرنی چاہئیں۔ میں نے جو فتوی دیا ہے وہ عام ہے ورنہ سود کا لینا اور دینا دونوں حرام ہیں مگر اس ضعف اسلام کے زمانہ میں جبکہ مالی ترقی کے ذریعہ پیدا نہیں ہوئے اور مسلمان توجہ نہیں کرتے ایسا روپیہ اسلام کے کام میں لگنا حرام نہیں ہے۔