تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 437 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 437

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۳۷ سورة البقرة الْعِظَامِ كَيْفَ نُنْشِزُهَا ثُمَّ نَكْسُوهَا لَحْمًا فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ قَالَ أَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ عزیر کے فوت ہونے اور پھر سو برس کے بعد زندہ ہونے کی حجت جو پیش کی گئی ہے یہ حجت مخالف کے لئے کچھ مفید نہیں ہے کیونکہ ہرگز بیان نہیں کیا گیا کہ عزیر کو زندہ کر کے پھر دنیا کے دارالہوم میں بھیجا گیا تا یہ فساد لازم آوے کہ وہ بہشت سے نکالا گیا بلکہ اگر ان آیات کو اُن کے ظاہری معانی پر محمول کیا جاوے تو صرف یہ ثابت ہوگا کہ خدائے تعالیٰ کے کرشمہ قدرت نے ایک لمحہ کے لئے عزیز کو زندہ کر کے دکھلا دیا تا اپنی قدرت پر اس کو یقین دلا دے ۔ مگر وہ دنیا میں آنا صرف عارضی تھا اور دراصل عزیر بہشت میں ہی موجود تھا۔ جاننا چاہیئے ! کہ تمام انبیاء اور صدیق مرنے کے بعد پھر زندہ ہو جاتے ہیں اور ایک نورانی جسم بھی انہیں عطا کیا جاتا ہے اور کبھی کبھی بیداری میں راستبازوں سے ملاقات بھی کرتے ہیں۔ چنانچہ اس بارہ میں یہ عاجز خود صاحب تجربہ ہے۔ پھر اگر عزیز کو خدائے تعالیٰ نے اسی طرح زندہ کر دیا ہو تو تعجب کیا ہے؟ لیکن اس زندگی سے یہ نتیجہ نکالنا کہ وہ زندہ ہو کر بہشت سے خارج کئے گئے یہ عجب طور کی نادانی ہے بلکہ اس زندگی سے تو بہشت کی تجلی زیادہ تر بڑھ جاتی ہے۔ (ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۸۷، ۲۸۸) قرآن اور حدیث دونوں بالاتفاق اس بات پر شاہد ہیں کہ جو شخص مر گیا پھر دنیا میں ہر گز نہیں آئے گا اور قرآن کریم أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ (الانبياء : ۹۶) کہہ کر ہمیشہ کے لئے اس دنیا سے اُن کو رخصت کرتا ہے۔ اور قصہ عزیر وغیرہ جو قرآن کریم میں ہے اس بات کے مخالف نہیں کیونکہ لغت میں موت بمعنی نوم اور غشی بھی آیا ہے، دیکھو! قاموس ۔ اور جو عزیر کے قصہ میں ہڈیوں پر گوشت چڑھانے کا ذکر ہے وہ حقیقت میں ایک الگ بیان ہے جس میں یہ جتلانا منظور ہے کہ رحم میں خدائے تعالیٰ ایک مردہ کو زندہ کرتا ہے اور اس کی ہڈیوں پر گوشت چڑھاتا ہے اور پھر اس میں جان ڈالتا ہے، ماسوا اس کے کسی آیت یا حدیث سے یہ ثابت نہ یہ ثابت نہیں ہو سکتا کہ عزیر دوبارہ زندہ ہو کہ ہو کر پھر بھی فوت ہوا۔ پس اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ عزیر کی زندگی دوم ، دنیوی زندگی نہیں تھی ورنہ بعد اس کے ضرور کہیں اس کی موت کا بھی ذکر ہوتا ۔ ایسا ہی قرآن کریم میں جو بعض لوگوں (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۵۹) کی دوبارہ زندگی لکھی ہے وہ بھی دنیوی زندگی نہیں۔ مسیح علیہ السلام کی وفات کے منکر اپنے دلائل میں حضرت عزیر کی زندگی کا سوال پیش کرتے ہیں کہ وہ