تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 438 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 438

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۳۸ سورة البقرة سو برس مرکز پھر زندہ ہوا۔ مگر یاد رہے کہ یہ احیاء بعد لا ماتت ہے۔ اور احیاء کی کئی قسمیں یں ہیں ؛ اول یہ کہ کوئی آدمی مرنے کے بعد ایسے طور پر زندہ ہو جاوے کہ قبر پھٹ جاوے اور وہ اپنا بوریا بدھنا، استر بستر وغیرہ اُٹھا کر دنیا میں آجاوے۔ دوم یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ایک نئی زندگی بخشے جیسے اہل اللہ کو ایک دوسری زندگی دی جاتی ہے جس طرح پر ایک شخص نے خدا سے ڈر کر کہا تھا کہ میری راکھ اڑا دی جاوے اس پر خدا تعالیٰ نے اُس کو زندہ کیا یہ راکھ کا اکٹھا کرنا بھی ایک جسمانی زندگی تھی مرنے کے بعد جو زندگی ملتی ہے وہاں تو راکھ کا اکٹھا کرنا نہیں ہے ۔۔ بعض آدمی حجۃ اللہ ، آیات اللہ کہلاتے ہیں، بعض وجود ہی نشان ہوتے ہیں ، بعض کے مرنے کے بعد نشان قائم رہتے ہیں ۔ یہ بیان کرنا ضروری تھا کہ اس اعتراض کا منشا کیا ہے؟ جس راہ کو ہم نے اختیار کیا ہے اس کے خلاف ہے۔ ہمارے مخالفوں کا مسیح کی نسبت تو یہ اعتقاد ہے کہ وہ زندہ ہی آسمان پر گئے اور زندہ ہی واپس آئیں گے۔ عزیر کے قصہ سے اس کو کیا تعلق اور کیا مشابہت ہے؟ یہ مشابہت تو تب ہوتی اگر معترض کا یہ مذہب ہوتا کہ مسیح علیہ السلام قبر پھٹ کر نکلیں گے۔ جبکہ اُن کا یہ مذہب ہی نہیں تو پھر تعجب کی بات ہے کہ اس قصہ کو جو قیاس مع الفارق ہے کیوں پیش کرتے ہیں ۔۔۔۔ غرض اس سلسلہ میں یعنی مسیح کے قصہ میں عزیز کا قصہ داخل کرنا خلط مبحث ہے۔ ہمارا یہ مذہب ہے کہ عزیز کے قصہ کو مسیح کے آنے نہ آنے سے کچھ تعلق نہیں ہے۔ ہاں ! اگر رنگ سوال اور ہو تو اور بات ہے یعنی عزیز کیوں کر زندہ ہوا ؟ ہم اس قسم کی حیات کے منکر ہیں اور سارا قرآن اوّل سے آخر تک منکر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو تجویز بندوں کے لئے رکھی ہے کہ خدا تعالیٰ اُس کے فرشتوں اُس کی کتابوں وغیرہ پر ایمان رکھ کر خاتمہ اس طرح پر ہوتا ہے کہ فرشتہ ملک الموت آ کر قبض روح کر لیتا ہے اور پھر اور واقعات پیش آتے ہیں ۔ منکر نکیر آتے ہیں ، اعمال آتے ہیں ، پھر کھڑ کی نکالی جاتی ہے۔ پھر قرآن کریم کہتا ہے کہ موٹی قیامت ہی کو اٹھیں گے: وَالْمَوْتَى يَبْعَثُهُمُ اللهُ (الانعام : (۳) معالم میں لکھا ہے کہ رجوع موتی نہیں ہوتا۔ قرآن کریم کے دو حصے ہیں ۔ کوئی بات قصہ کے رنگ میں ہوتی ہے اور بعض احکام ہدایت کے رنگ میں ہوتے ہیں۔ بہ حیثیت ہدایت جو پیش کرتا ہے اُس کا منشا ہے کہ مان لو جیسے فرمایا: أَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُم (البقرة: ۱۸۵) ۰۰۰۔ قصوں کے حقائق بتانے خدا تعالیٰ کو ضرور نہیں ، اُن پر ایمان لاؤ اور ان کی تفاسیر حوالہ بخدا کرو۔۔۔۔ ہمارے مخالفوں میں اگر دیانت اور خدا ترسی ہو تو عزیر کا قصہ بیان کرتے وقت ضرور ہے