تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 347 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 347

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴۷ سورة البقرة عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ انسان کی بات کو مان لیتا ہے اور اس کی دعا کو قبول فرماتا ہے اور دوسری فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بُی سے اور وَلَنَبْلُوَنَّكُمُ (البقرة : ۱۵۶) سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی بات منوانا چاہتا ہے۔ بعض لوگ خدا تعالیٰ پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ ہماری دعا کو قبول نہیں کرتا۔ یا اولیاء لوگوں پر طعن کرتے ہیں کہ ان کی فلاں دعا قبول نہیں ہوئی۔ اصل میں وہ نادان اس قانون الہی سے نا آشنا محض ہوتے ہیں جس انسان کو خدا سے را سے ایسا معاملہ پڑا ہو گا وہ خوب اس قاعدہ سے آگاہ ہوگا ۔ خدا تعالیٰ نے مان لینے کے اور منوانے کے دو نمونے پیش کئے ہیں۔ انہی کو مان لینا ایمان ہے تم ایسے نہ بنو کہ ایک ہی پہلو پر زور دو۔ ایسا نہ ہو کہ تم خدا کی مخالفت کر کے اس کے مقررہ قانون کو توڑنے کی کوشش کرنے والے بنو۔ قبولیت دعا کی شرط ا الحكم جلد نمبر ۱۱ مؤرخہ ۲۴ / مارچ ۱۹۰۳ صفحه ۱۲ و ملفوظات جلد سوم صفحه ۱۵۱) یہ خوب یا درکھو کہ انسان کی دعا اس وقت قبول ہوتی ہے جبکہ وہ اللہ تعالیٰ کے لئے غفلت فسق و فجور کو چھوڑ دے۔ جس قدر قرب الہی انسان حاصل کرے گا اسی قدر قبولیت دعا کے ثمرات سے حصہ لے گا۔ اسی لئے فرمایا ہے وَ إِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ اور دوسری جگہ فرمایا ہے کہ وَ أَنَّى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَكَانٍ بَعِيدٍ (سبا: ۵۳) یعنی جو مجھ سے دور ہو اس کی دعا کیوں کر سنوں؟ یہ گو یا عام قانون قدرت کے نظارہ سے ایک سبق دیا ہے۔ یہ نہیں کہ خدا سن نہیں سکتا۔ وہ تو دل کے مخفی در مخفی ارادوں اور ان ارادوں سے بھی واقف ہے جو ابھی پیدا نہیں ہوئے ۔ مگر یہاں پر انسان کو قرب الہی کی طرف توجہ دلائی ہے کہ جیسے دور کی آواز سنائی نہیں دیتی، اسی طرح پر جو شخص غفلت اور فسق و فجور میں مبتلا رہ کر مجھ سے دور ہوتا جاتا ہے، جس قدر وہ دور ہوتا ہے اس قدر حجاب اور فاصلہ اس کی دعاؤں کی قبولیت میں ہوتا جاتا ہے۔ کیا سچ کہا ہے : پیدا است ندارا که بلند هست جنابت جیسے میں نے ابھی کہا گو خدا عالم الغیب ہے لیکن یہ قانون قدرت ہے کہ تقویٰ کے بغیر کچھ نہیں ہوتا۔ الحکم جلد ۴ نمبر ۴۴ مؤرخه ۱۰ دسمبر ۱۹۰۰ صفحه (۳) أحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ هُنَّ لِبَاسٌ لَكُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَهُنَّ عَلِمَ اللهُ أَنَّكُمُ كُنْتُمْ تَخْتَانُونَ أَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ وَعَفَا عَنْكُمْ