تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 348
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴۸ سورة البقرة فَالْنَ بَاشِرُوهُنَّ وَ ابْتَغُوا مَا كَتَبَ اللهُ لَكُمْ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى الَّيْلِ وَلَا تُبَاشِرُوهُنَّ وَ اَنْتُمْ عُكِفُونَ فِي الْمَسْجِدِ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا لا تَقْرَبُوهَا كَذلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ ايَتِهِ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ ) كُلُوا ایک امر ہے جب مومن اس کو امر سمجھ کر بجالا وے تو اس کا ثواب ہوگا اسی طرح عَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ (النساء :۲۰) امر کی بجا آوری سے ثواب ہوتا ہے لیکن اگر ریا کاری سے نماز بھی ادا کرے تو پھر اس کے لئے ویل ہے۔ الحکم جلد ۸ نمبر ۸ مورخه ۱۰ ر مارچ ۱۹۰۴ء صفحه ۹) (وَ أَنْتُمْ عَلِفُونَ فِي الْمَسْجِدِ ) اعتکاف میں یہ ضروری نہیں ہے کہ انسان اندر ہی بیٹھا رہے اور بالکل کہیں آئے جائے ہی نہ ۔۔۔۔ چھت پر دھوپ ہوتی ہے۔ وہاں جا کر آپ ( ڈاکٹر عباد اللہ صاحب امرتسری اور خواجہ کمال الدین صاحب سے خطاب ہے ۔ ہر دو اصحاب ان دنوں قادیان کی مسجد میں معتکف تھے۔ مرتب ) بیٹھ سکتے ہیں کیونکہ نیچے یہاں سردی زیادہ ہے اور ہر ایک ضروری بات کر سکتے ہیں ضروری امور کا خیال رکھنا چاہئے اور یوں تو ہر ایک کام ( مومن کا ) عبادت ہی ہوتا ہے۔ البدر جلد اول نمبر ۱۰ مورخه ۲ جنوری ۱۹۰۳ ء صفحه (۷۴) وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمُ بِالْبَاطِلِ وَ تُدْلُوا بِهَا إِلَى الْحُكَامِ لِتَأْكُلُوا فَرِيقًا مِنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالْإِثْمِ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ یعنی آپس میں ایک دوسرے کے مال کو نا جائز طور پر مت کھایا کرو اور نہ اپنے مال کو رشوت کے طور پر حکام تک پہنچایا کرو۔ تا اس طرح پر حکام کی اعانت سے دوسرے کے مالوں کو دبالو۔ نا جائز طور پر ایک دوسرے کے مال مت کھاؤ۔ اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۴۷) شہادت القرآن، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۳۱) تم ایک دوسرے کے مال کو ناحق کے طور پر مت کھاؤ۔ (شہادت القرآن، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۳۶) يَسْتَلُونَكَ عَنِ الْأَهِلَّةِ قُلْ هِيَ مَوَاقِيْتُ لِلنَّاسِ وَالْحَجِّ وَلَيْسَ الْبِرُّ بِأَنْ تَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ ظُهُورِهَا وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقَى وَأَتُوا الْبُيُوتَ مِنْ أَبْوَابِهَا وَ