تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 346
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴۶ سورة البقرة جَارِيَةٍ مِنَ الْمَقْلَةِ ، وَ قَلْبِ ہے۔ اس کے آنسو بہتے ہیں، اور اس کی آنکھوں سے پانی جاری يَضْجَرُ كَأَنَّهُ وُضِعَ عَلَى الْجَمْرَةِ ، ہوتا ہے۔ اور اس کا دل سوز و گداز سے بھرا ہوتا ہے گویا کہ وہ آگ تَحَرَّكَ لَهُ مَوْجُ الْقُبُولِ مِن کے انگارے پر رکھا گیا ہے۔ ایسے شخص کے لئے بارگاہ احدیت الْحَضْرَةِ، وَ نُجِّيَ مِن كَرْبِ بَلَغَ سے قبولیت کی موج حرکت میں آتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اسے اس أَمْرُهُ إِلَى الْهَلَكَةِ ، بَيْد أَنَّ هَذَا مصیبت سے نجات دیتا ہے۔ جو اسے ہلاکت تک پہنچا رہی تھی ۔ الْمَقَامَ ، لَا يَحْصُلُ إِلَّا لِمَنْ فَنی فی ہاں یادر ہے کہ یہ مقام صرف اسی کو حاصل ہوتا ہے جو فانی فی اللہ ہو اللهِ وَ أَثَرَ الْحَبِيبَ الْعَلامَ، وَ اور اپنے عالم الغیب محبوب کو سب پر ترجیح دے۔ اور ہر اس چیز کو تَرَكَ كُلَّمَا يُشَابِهُ الْأَصْنَامَ، ترک کر دے جو بتوں سے مشابہ ہے پھر قرآن مجید کی آواز پر وَلَبِي نِدَاءَ الْقُرْآنِ، وَحَضَرَ حَرِيمَ لبیک کہے اور دونوں جہانوں کے بادشاہ خدا کے سامنے حاضر ہو السُّلْطَانِ ، وَأَطَاعَ الْمَوْلى حَتَّی جائے ۔ اپنے آقا کی اطاعت میں فناء کے مقام تک پہنچ جائے ۔ فَلَى ، وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوى ، اور نفس کو تمام خواہشات سے روکے۔ وہ اس وقت اللہ کے حضور وَتَيَقَظَ فِي زَمَن نَّعْسِ النَّاسِ جاگ کر وقت گزارے جب لوگوں پر نیند کا غلبہ ہو اور وسوسہ انداز وَعَانَ الْوَسْوَاسُ ، وَرَضِيَ عَن شیطان ان میں خرابی پیدا کرتا ہو۔ ایسا مومن جو اپنے رب سے اور رَّبِّهِ وَمَا قَضَى، وَ أَلْقَى إِلَيْهِ الْعُلٰی اس کی قضا پر ہر حال میں راضی ہو اور اپنے تمام معاملات کو اس کے ، وَ مَا دَنَّسَ نَفْسَهُ بِالذُّنُوبِ، بَعْدَ سپرد کر دے اور جب اسے محبوب کے دیار میں پاک دل اور مضبوط مَا أُدْخِلَ فِي دِيَارِ الْمَحْبُوبِ عزیمت اور واضح سچائی کے طفیل داخل کیا جا چکا ہو تو وہ اپنے نفس کو بِقَلْبٍ نَقِي وَ عَزْمٍ قَوِي وَ صِدْقٍ کسی قسم کے گناہ سے بھی میلا نہ کرے۔ یہ وہ لوگ ہیں، جن کی جلي أُولئِكَ لَا تُضَاعُ دَعَوَاتُهُمْ، دُعا میں کبھی ضائع نہیں جاتیں اور جن کی عاجزانہ التجائیں کبھی رڈ وَلَا تُرَدُّ كَلِمَاتُهُمْ ۔ نہیں ہوتیں۔ ( ترجمہ از مرتب ) ( تذکرۃ الشہادتین ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۸۲، ۸۳ ) خدا تعالیٰ نے تو انسان سے نہایت تنزل کے رنگ میں دوستانہ برتاؤ کیا ہے۔ دوستانہ تعلق کیا ہوتا ہے یہی کہ کبھی ایک دوست دوسرے دوست کی بات مان لیتا ہے اور کبھی دوسرے سے اپنی بات منوانا چاہتا ہے چنانچہ خدا تعالیٰ بھی ایسا ہی کرتا ہے چنانچہ ادْعُونِي اَسْتَجِبْ لَكُمْ (المومن : ۶۱) اور إِذَا سَأَلَكَ عِبَادِى ۔