تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 354 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 354

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۵۴ سورة الفاتحة چونکہ اس اُمت کے لئے یہ کہا گیا تھا کہ آخری زمانہ میں وہ یہود کے ہمرنگ ہو جائے گی۔ چنانچہ بالا تفاق غَيْرِ الْمَغْضُوبِ میں مغضوب سے مراد یہود لی گئی ہے۔ پھر یہ یہودی تو اسی وقت ہوتے جب اُن کے سامنے بھی ایک عیسی پیش ہوتا اور اسی طرح پر یہ بھی انکار کر دیتے ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ آنے والا عیسی آ گیا اور انہوں نے انکار کر دیا۔ الحکم جلد ۹ نمبر ۳۹ مورخه ۱۰ نومبر ۱۹۰۵ ء صفحه ۴) یہ جو اللہ تعالیٰ نے سورہ فاتحہ میں فرمایا ہے کہ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ۔ اس میں ہم نے غور کیا تو معلوم ہوتا ہے کہ آنے والے شخص میں دو قسم کی صفات کی ضرورت ہے۔ اوّل تو عیسوی صفات اور دوسرے محمدی صفات کی کیونکہ مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ سے مراد یہود اور الضالین سے مراد نصاری ہیں ۔ جب یہود نے شرارت کی تھی تو حضرت عیسی ان کے واسطے آئے تھے جب نصاری کی شرارت زیادہ بڑھ گئی تو آنحضرت تشریف آور ہوئے تھے اور یہاں خدا تعالیٰ نے دونوں کا فتنہ جمع کیا اندرونی یہود اور بیرونی نصاری جن کے لئے آنے والا بھی آنحضرت کا کامل بروز اور حضرت عیسیٰ کا پورا نقشہ ہونا چاہئے تھا۔ الحکم جلدے نمبر ۱۸ مؤرخہ ۷ ارمئی ۱۹۰۳ء صفحہ (۲) قرآن شریف سے مستنبط ہوتا ہے کہ اس اُمت پر دو زمانے بہت خوفناک آئیں گے۔ ایک وہ زمانہ جو ابو بکر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آیا۔ اور دوسرا وہ زمانہ جو دجالی فتنہ کا زمانہ ہے جو مسیح کے عہد میں آنے والا تھا جس سے پناہ مانگنے کے لئے اس آیت میں اشارہ ہے۔ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ ۔ اور اسی زمانہ کے لئے یہ پیشگوئی سورہ نور میں موجود ہے۔ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ آمَنَّا (النور: ۵۶) اس آیت کے معنے پہلی آیت کے ساتھ ملا کر یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس دین پر آخری زمانہ میں ایک زلزلہ آئے گا اور خوف پیدا ہو جائے گا کہ یہ دین ساری زمین پر سے گم نہ ہو جائے ۔ تب خدا تعالیٰ دوبارہ اس دین کو روئے زمین پر متمکن کر دے گا اور خوف کے بعد امن بخش دے گا۔ لیکچر لاہور ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۱۸۷) غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ سے مراد مولوی ہیں کیونکہ ایسی باتوں میں اول نشانہ مولوی ہی ہوا کرتے ہیں البدر جلد ۲ نمبر ۷ ۱ مورخه ۱۵ مئی ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۳۱) دنیا داروں کو تو دین سے تعلق ہی کم ہوتا ہے۔ یہود ایک قوم کا نام ہے جو حضرت موسیٰ کی اُمت کہلائی ان بد قسمتوں نے شوخیاں کی تھیں۔ سب نبیوں کو دکھ دیا۔ یہ قاعدے کی بات ہے کہ جو کسی بدی میں کمال تک پہنچتا ہے اور نامی ہو جاتا ہے تو پھر اس بدی میں