تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 355 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 355

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۵۵ سورة الفاتحة اسی کا نام لیا جاتا ہے۔ ڈا کو تو کئی ہوئے مگر بعض ڈاکو خصوصیت سے مشہور ہیں ۔ دیکھو ؟ ۔ دیکھو ہزاروں پہلوان گذرے ہزار ہیں مگر رستم کا نام ہی مشہور ہے۔ یہ یہود چونکہ اول درجے کے شرارت کرنے والے تھے اور نبیوں کے سامنے شوخیاں کرتے ۔ اس لئے ان کا نام مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ ہو گیا یوں تو مغضوب علیہم اور بھی ہیں ۔ دوو البدر جلدے نمبر ا مؤرخہ ۹ جنوری ۱۹۰۸ ء صفحہ ۷ ) وَ فِي آيَةِ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ آیت اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ میں اشارہ ہے إِشَارَةٌ وَحَتْ عَلَى دُعَاءِ صِحَةِ الْمَعْرِفَةِ اور اس امر پر ترغیب دلائی گئی ہے کہ صحیح معرفت کے لئے كَأَنَّهُ يُعَلِّمُنَا وَ يَقُولُ ادْعُوا اللهَ أَن دعا کی جاوے گویا کہ اللہ تعالیٰ ہمیں تعلیم دیتے ہوئے فرماتا يُرِيَكُمْ صِفَاتَهُ كَمَا هِيَ وَ يَجْعَلَكُمْ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ وہ اپنی صفات کی ماہیت مِنَ الشَّاكِرِينَ لِأَنَّ الْأُمَمَ الْأُولى ما تمہیں دکھائے اور تمہیں شکر گزار بندوں میں سے بناوے ضَلُّوا إِلَّا بَعْدَ كَوْنِهِمْ عُمْيًا فِي مَعْرِفَةِ کیونکہ پہلی قو میں اللہ تعالیٰ کی صفات ، اُس کے انعامات صِفَاتِ اللهِ تَعَالَى وَ إِنْعَامَاتِهِ اور اس کی خوشنودی کی معرفت سے اندھا ہونے کے بعد وَمَرْضَاتِهِ فَكَانُوا يُفَانُوْنَ الْأَيَّامَ فيما ہی گمراہ ہوئی ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی کے دن ایسے يَزِيدُ الْأَثَامَ فَحَلَّ غَضَبُ اللهِ عَلَيْهِمُ اعمال میں ضائع کر دیئے جن اعمال نے اُنہیں گناہوں میں فَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الظُّلَّةُ وَكَانُوا مِن اور بھی آگے بڑھا دیا ۔ پس اُن پر خدا کا غضب نازل ہوا اور الْهَالِكِينَ وَ إِلَيْهِ أَشَارَ الله تعالى في اُن پر خواری مسلّط کر دی گئی اور وہ ہلاک ہونے والوں میں قَوْلِهِ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَسِيَاقُ شامل ہو گئے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ كَلَامِهِ يُعْلِمُ أَنَّ غَضَبَ اللهِ لَا يَتَوَجَّهُ میں اسی کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ سیاق کلام سے معلوم ہوتا إِلَّا إِلَى قَوْمٍ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ مِنْ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا غضب انہی لوگوں کا رُخ کرتا ہے جن پر قَبْلِ الْغَضَبِ فَالْمُرَادُ مِنَ الْمَغْضُوبِ اس غضب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے انعام کئے ہوں ۔ پس اس عَلَيْهِمْ فِي الْآيَةِ قَوْمٌ عَصَوْا فِي نَعْمَاءِ آیت میں مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں وَآلَاءِ رَزَقَهُمُ اللهُ خَاصَّةً وَاتَّبَعُوا نے ان نعمتوں اور برکتوں کے بارے میں جو اللہ تعالیٰ نے الشَّهَوَاتِ وَنَسُوا الْمُنْعِمَ وَ حَقَّهُ خاص طور پر انہیں پر نازل فرمائی تھیں اس (کے احکام ) کی وَكَانُوا مِنَ الْكَافِرِينَ وَ أَمَّا الضَّالُونَ نافرمانی کی۔ اپنی خواہشات کی پیروی کی اور انعام کرنے