تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 262
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۶۲ سورة الفاتحة قَصَدَ إِلَّا اللَّهَ فِي سُبُلِ سَيْرِهِ وَتَابَ میں اپنے ربّ کے سوا اور کچھ بھی باقی نہیں رہ جاتا۔ وہ اپنے مِنْ كُلِّ إِدْلَالٍ وَ اغْتِرَارٍ بِمَالٍ وَ ذِی محبوب ہی کی پیروی کرتا ہے۔ اپنے دل کو غیروں سے خالی کر مَالٍ وَ حَضَرَ حَضْرَةَ الرَّب کے اُس کے حضور حاضر ہو جاتا ہے اور اپنے راہ سلوک میں اللہ تعالیٰ كَالْمَسَاكِينِ وَ وَذَرَ الْعَاجِلَةَ وَ کے سوا اس کا کوئی مقصود نہیں ہوتا اور وہ مال اور صاحب مال پر أَلْغَاهَا وَ أَحَبَّ الْآخِرَةَ وَ ابْتَغَاهَا وَ کسی قسم کا ناز کرنے یا ان سے دھوکا کھانے سے تائب ہو جاتا تَوَكَّلَ عَلَى اللهِ وَ كَانَ لِلَّهِ وَ فَلی فِی ہے۔ اور بارگاہ رب العزت میں مسکینوں کی طرح حاضر ہو جاتا اللهِ وَ سَعَى إِلَى اللهِ كَالْعَاشِقِينَ ہے۔ وہ دنیا کو ترک کر دیتا ہے اور اس سے الگ ہو جاتا ہے اور فَهَذَا هُوَ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمُ الَّذِي آخرت سے محبت کرتا ہے اور اُسے ہی چاہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ پر هُوَ مُنْتَهى سَيْرِ السَّالِكِينَ وَ مَقْصَد تو گل کرتا ہے اور اُسی کا ہی ہو رہتا ہے خدا میں ہی فنا ہو جاتا ہے الظَّالِبِينَ الْعَابِدِينَ وَ هَذَا هُوَ اور عاشقوں کی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف دوڑتا آتا ہے پس یہی النُّورُ الَّذِي لَا يَحِلُّ الرَّحْمَةُ إِلَّا بَعْدَ وہ صراط مستقیم ہے جو سالکوں کے سلوک کی انتہاء ہے اور طالبوں حُلُوْلِهِ وَلَا يَحْصُلُ الْفَلَاحُ إِلَّا بَعْدَ اور عابدوں کا آخری مقصود ہے اور یہی وہ نور ہے کہ جس کے حُصُولِهِ وَهُذَا هُوَ الْمِفْتَاحُ الَّذِی اُترنے کے بغیر رحمت الہی نازل نہیں ہوا کرتی اور اس کے يُنَاجِي السَّالِكَ مِنْهُ بِذَاتِ الصُّدُورِ حصول کے بغیر کوئی حقیقی کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔ یہ وہ کلید وَ تُفْتَحُ عَلَيْهِ أَبْوَابُ الْفِرَاسَةِ وَ ہے جس کے ذریعہ سالک راہ اپنے سینے کی باتیں رب کے حضور يُجْعَلُ مُحَدَّنَا مِنَ اللهِ الْغَفُورِ وَ مَنْ مناجات میں ذکر کرتا ہے۔ اور اس پر فراست کے دروازے نَاجِي رَبَّهُ ذَاتَ بُكْرَةٍ بِهَذَا الدُّعَاءِ کھولے جاتے ہیں اور خدائے بخشندہ کی طرف سے اُسے بِالْإِخْلَاصِ وَ إِلْحَاضِ النِّيَّةِ وَ محدث قرار دیا جاتا ہے۔ اور جو شخص صبح کے وقت اخلاص، رِعَايَةِ شَرَائِطِ الْإِنْقَاءِ وَالْوَفَاءِ خالص نیت پر ہیز گاری اور وفاداری کی شرائط کی پابندی سے فَلَا شَكَ أَنَّهُ يَحْلُّ مَحَلَّ الْأَصْفِيَاءِ پوشیدہ طور پر خدا تعالیٰ سے یہ دُعا مانگے تو بلاشبہ وہ برگزیدہ وَالْأَحِبَّاءِ وَالْمُقَرَّبِينَ وَمَنْ تَأَوَّلَ لوگوں ، خدا کے محبوں اور مقربوں کا مقام حاصل کر لیتا ہے اور جو اهَةَ الشَّكَلَانِ فِي حَضْرَةِ الرَّب شخص گم کرده اولاد والے کی طرح خدائے حسن کی جناب میں الْمَنَّانِ وَطَلَبَ اسْتِجَابَةَ هَذَا آہیں بھرے اور خدائے رحمان سے عاجزی، انکساری کرتے