تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 263 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 263

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۶۳ سورة الفاتحة کی الدُّعَاءِ مِنَ اللهِ الرَّحْمَنِ خَاشِعًا | ہوئے جبکہ اس کی آنکھیں بہہ رہی ہوں اس دُعا کی قبولیت کا مُبْتَهِلًا وَ عَيْنَاهُ تَدْرِفَانِ التجا کرے تو اُس کی دُعا قبول کر لی جاتی ہے اور اُسے عزت والی فَيُسْتَجَابُ دُعَاؤُهُ وَيُكْرَمُ مَثْوَاهُ جگہ ملتی ہے۔ اُس کو اُس کے مناسب حال ہدایت دی جاتی وَيُعْطَى لَهُ هُدَاهُ وَتُقَوی لَهُ عَقِيدَتُهُ ہے۔ اس کا عقیدہ یا قوت کی مانند روشن دلائل سے پختہ کیا جاتا بِالآئِلِ الْمُنِيرَةِ كَالْيَا قُوتِ وَ ہے اُس کا دل جو مکڑی کے جالے سے بھی زیادہ کمزور تھا مضبوط يُقَوَى لَهُ قَلْبُهُ الَّذِي كَانَ أَوهَنَ مِنْ کیا جاتا ہے ۔ اُسے وسعتِ اخلاق اور تقویٰ کی باریک راہوں بَيْتِ الْعَنْكَبوتِ وَيُوَفِّقُ لِتَوْسِعَةِ کی توفیق دی جاتی ہے۔ اور وہ روحانی لوگوں کی مہمانی اور ربانی الشَّرْعِ وَدَقَائِقِ الْوَرَعِ فَيُدْعَى إِلى لوگوں کی عمدہ چیزوں کی طرف بلایا جاتا ہے۔ وہ ہر حال میں قرى الرُّوْحَانِيِّينَ وَ مَطَائِبِ مغلوب خواہش پر غالب رہتا ہے اور اپنی خواہشِ نفس کو الرَّبَّانِيِّينَ وَ يَكُونُ فِي كُلِّ حَالِ شریعت کی نگرانی میں جدھر چاہے ہانکتا ہے جیسے ایک بہادر غَالِبًا عَلى هَوَى مَغْلُوبِ وَيَقُودُهُ ترین سوار مطیع ترین سواری پر سوار ہو کر اسے ہانکتا ہو۔ وہ دنیا کو بِرِعَايَةِ الشَّرْعِ حَيْثُ يَشَاءُ كَأَشْجَع نہیں چاہتا۔ نہ اُس کی خاطر اپنے آپ کو مشقت میں ڈالتا رَاكِبٍ عَلَى أَطْوَعِ مَرْكُوبِ وَلَا يَبْغِی ہے۔ نہ دنیا کے پچھڑے کو سجدہ کرتا ہے۔ خدا تعالیٰ اس کا متوتی الدُّنْيَا وَلَا يَتَعَلى لِأَجْلِهَا وَلَا يَسْجُدُ ہو جاتا ہے اور وہی صالح بندوں کا متوتی ہوا کرتا ہے۔ اس کا لِعِجْلِهَا وَيَتَوَلَّاهُ اللهُ وَ هُوَ يَتَوَلَّى نفس مطمئن ہو جاتا ہے اور وہ (نفس) اُس کے لئے ہلاک الصَّالِحِينَ وَتَكُونُ نَفْسُهُ مُطْمَئِنَّةً وَ کنندہ اور گمراہ کن کی طرح نہیں رہتا۔ اور اُوپر سے شکار پر لَا تَبْقَى كَالْمُبِيْدِ الْمُضِلِ وَ لا جھانکنے والے باز کی طرح آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دنیا کی طرف تُحَمْلِقُ حَمْلَقَةَ الْبَازِ الْمُطِلِ وَیری نہیں دیکھتا۔ ایسا شخص اپنے سلوک کے مقاصد کو سنیوں کی طرح مَقَاصِدَ سُلُوكِهِ كَالْكِرَامِ وَلَا تَكُونُ ظاہر دیکھتا ہے۔ اس کی (فیاضی کے ) بادل خشک بادلوں کی سُحُبُهُ كَالْجَهَامِ بَلْ يُشْرِبُ كُلَّ حِينٍ طرح نہیں ہوتے ۔ بلکہ وہ ہر وقت دوسروں کو صاف جاری پانی مِنْ مَاءٍ مَعِينٍ وَحَثَّ اللهُ عِبَادَةَ پلاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو ترغیب دلائی ہے کہ وہ عَلَى أَنْ يَسْأَلُوهُ إِدَامَةَ ذَلِكَ الْمَقَامِ اُس سے ان کے اس مقام پر دوام ، ثابت قدمی اور اس مقصد وَالتَّقَبُّتَ عَلَيْهِ وَالْوُصُول إلى هذا | تک پہنچنے کے لئے التجا کیا کریں۔ کیونکہ وہ ایک بہت ہی بلند يظهر ان بالدلائل شمس