تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 253 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 253

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵۳ سورة الفاتحة الْكَلِيمِ فِي آخِرِ سِلْسِلَةِ النَّبِيِّ الْكَرِيمِ کے سلسلہ کے آخر میں بھی ایک مسیح ظاہر ہو۔ وَ إِنَّا آمَنَّا بِهَذَا الْوَعْدِ فَإِنَّهُ مِنْ رَّبِّ ہمارا اس وعدہ پر ایمان ہے کیونکہ یہ وعدہ ربّ عباد کی الْعِبَادِ وَ إِنَّ اللهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ وَ طرف سے ہے اور اللہ تعالیٰ وعدہ خلافی نہیں کرتا۔ اس الْعَجَبُ مِنَ الْقَوْمِ أَنَّهُمْ مَّا نَظَرُوا إِلى قوم پر تعجب ہے کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کے وعدہ کی وَعْدِ حَضْرَةِ الْكِبْرِيَاءِ ، وَهَلْ يُوَفَّى وَيُنْجَزُ طرف دھیان نہیں کیا اور خدائی وعدہ تو اٹل ہوتا ہے اور إِلَّا الْوَعْدُ فَلْيَنْظُرُوا بِالتَّقْوَى وَالْحَيَاء - ضرور پورا ہو جاتا ہے پس چاہئے کہ خوف خدا اور حیاء کے وَ هَلْ فِي شِرْعَةِ الْإِنْصَافِ أَنْ يُنَزَلَ ساتھ دیکھیں کہ آیا یہ قانون عدل ہے کہ مسیح آسمان سے الْمَسِيحُ مِنَ السَّمَاءِ وَيُخْلَفَ وَعْدُ هُمَا ثَلَةِ نازل کیا جائے اور سلسلہ ہائے خلفاء کی مشابہت کے سِلْسِلَةِ الْإِسْتِخْلَافِ وَإِنَّ تَشَابَةَ وعدہ کی خلاف ورزی کی جائے حالانکہ غیور خدا کے حکم السِّلْسِلَتَيْنِ قَدْ وَجَبَ بِحُكْمِ اللهِ الْغَيُورِ سے ان دونوں سلسلوں کی مشابہت واجب قرار پا چکی كَمَا هُوَ مَفْهُومٌ مِّنْ لَّفْظِ كَما في ہے جیسا کہ سورۃ نور کی آیت استخلاف کے لفظ گما سے سُورَةِ النُّورِ 66 اعجاز المسیح ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۱۷۰ تا ۱۸۹) سمجھا جاتا ہے۔ (ترجمہ از مرتب ) وَحَاصِلُ الْكَلَامِ أَنَّ اللهَ تَعَالَى يُبَشِّرُ حاصل کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم لِأُمَّةِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کی اُمت کو خوشخبری دیتا ہے گویا وہ یہ کہتا ہے کہ اے فَكَأَنَّهُ يَقُولُ يَا عِبَادِ إِنَّكُمْ خُلِقْتُم میرے بندو! تم پہلے انعام یافتہ لوگوں کی طبیعتوں پر پیدا عَلَى طَبَائِعِ الْمُنْعَمِينَ السَّابِقِينَ کئے گئے ہو اور تم میں اُن کی استعداد میں رکھی گئی ہیں پس وَ فِيكُمُ اسْتِعْدَادَاهُمْ فَلَا تُضَيَّعُوا تم ان استعدادوں کو ضائع نہ کرو اور کمالات حاصل کرنے الْاِسْتِعْدَادَاتِ وَ جَاهِدُوا لِتَحْصِيلِ کے لئے مجاہدات کرو اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ بڑا ہی سخی اور الْكَمَالَاتِ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللهَ جَوَادٌ كَرِيمٌ کریم ہے اور وہ بخیل اور کنجوس نہیں اور یہاں سے نزولِ وَلَيْسَ بِبَخِيْلٍ ضَنِينٍ وَمِنْ هُهُنَا يُفْهَمُ مسیح کا وہ راز سمجھا جا سکتا ہے جس کے بارہ میں لوگ سِرُّ نُزُولِ الْمَسِيحِ الَّذِي يَخْتَصِمُ النَّاسُ جھگڑتے ہیں کیونکہ جب اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے فِيهِ فَإِنَّ عَبْدًا مِّنْ عِبَادِ اللَّهِ إِذَا اقْتَدی ایک بندہ ہدایت یافتہ لوگوں کے طریق کی پیروی کرے