تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 252
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵۲ سورة الفاتحة قَوْلِهُ لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللهُ بِبَدْرٍ وَ انْتُمْ أَذِلَّةٌ * | کی طرف قرآن مجید نے آیت کریمہ وَ لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللهُ وَإِنَّ الْقُرْآنَ ذُو الْوُجُوهِ كَمَا لَا يَخْفَى عَلَى بِبَدْرٍ وَ انْتُمْ اَذِلہ میں اشارہ کیا ہے اور جیسا کہ جلیل القدر الْعُلَمَاءِ الْأَجِلَّةِ فَالْمَعْنَى الثَّانِي لِهَذِهِ عالموں پر مخفی نہیں قرآن کریم ذوالوجوہ ہے۔ سو اس جگہ اس الآيَةِ فِي هَذَا الْمَقَامِ أَنَّ اللهَ يَنْصُرُ آیت کے دوسرے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان صدیوں کے الْمُؤْمِنِينَ بِظُهُورِ الْمَسِيحِ إِلى مِنِيْنَ اختام پر جن کی گنتی بدر کامل کے دنوں کے مشابہ ہے مسیح تُشَابِهُ عِدَّتُهَا أَيَّامَ الْبَدْرِ التَّامِ موعود کے ظہور سے مومنوں کی مدد فرمائے گا۔ درآنحالیکہ وَالْمُؤْمِنُوْنَ أَذِلَّةٌ فِي تِلْكَ الأَيَّامِ فَانْظُرْ مومن اس زمانہ میں حقیر ہوں گے۔ پس اس آیت کو دیکھو إِلى هَذِهِ الْآيَةِ كَيْفَ تُشِيرُ إِلى ضُعْفِ کس طرح ترقی کے بعد اسلام کے ضعیف ہو جانے کی طرف الْإِسْلَامِ ثُمَّ تُشِيرُ إِلى كَوْنِ هِلَالِهِ اشارہ کرتی ہے۔ پھر یہی آیت خدائے علیم وخبیر کی طرف بَدْرًا فِي أَجَلٍ مُّسَمًّى مِنَ اللهِ الْعَلامِ سے مقرر کردہ مدت میں ہلالِ اسلام کے بدر بن جانے کی كَمَا هُوَ مَفْهُومٌ مِنْ لَّفْظِ الْبَدْرِ طرف اشارہ کرتی ہے۔ جیسا کہ آیت میں لفظ بدر سے سمجھا فَالْحَمْدُ لِله عَلى هَذَا الْأَفْضَالِ جاتا ہے۔ پس اس فضل اور انعام پر خدا تعالیٰ کے لئے ہی وَالْإِنْعَامِ وَ حَاصِلُ مَا قُلْنَا فِي هَذَا سب تعریفیں ہیں ۔ اس بارہ میں ہم نے جو کچھ بیان کیا ہے الْبَابِ أَنَّ الْفَاتِحَةَ تُبَشِّرُ بِكَوْنِ اس کا ماحصل یہ ہے کہ سورۃ فاتحہ بشارت دیتی ہے کہ مسیح موعود الْمَسِيحِ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ فَضْلًا مِنْ اِس اُمت میں سے ہوگا اور یہ خداوند تعالیٰ کی طرف سے بطور رَبِّ الْأَرْبَابِ فَقَدْ بُشِّرْ نَا مِنَ الْفَاتِحَةِ فضل و احسان ہوگا۔ پس سورت فاتحہ کے ذریعہ ہمیں خوشخبری بِأَمَّةٍ مِنَّا هُمْ كَأَنْبِيَاءِ بَنِي إِسْرَ آئِيلَ دی گئی ہے کہ انبیاء بنی اسرائیل کی مانند ہم میں ائمہ تو ہوں وَمَا بُشِّرْنَا بِنُزُولِ نَبِي مِنَ السَّمَاءِ گے لیکن آسمان سے کسی نبی کے نازل ہونے کی ہمیں کوئی فَتَدَبَّرُ هُذَا الدَّلِيلَ وَقَدْ سَمِعْتَ مِنْ بشارت نہیں دی گئی ۔ پس اس دلیل پر پورا غور کرو۔ اور تم قبل قَبْلُ أَنَّ سُورَةَ النُّورِ قَدْ بَشَرَتُنَا ازیں من چکے ہو کہ سورت نور نے ہمیں حضرت موسی کلیم اللہ بِسِلْسِلَةِ خُلَفَاءٍ تُشَابِهُ سِلْسِلَةَ خُلَفَاءِ کے خلفاء کے سلسلہ کی مانند ایک سلسلہ خلفاء کی بشارت دی الْكَلِيمِ وَكَيْفَ تَتِمُّ الْمُشَابَقَةُ مِنْ ہے۔ پس یہ مشابہت کس طرح پوری ہو گی سوائے اس کے کہ دُوْنِ أَنْ يَظْهَرَ مَسِيحُ كَمَسِيحِ سِلْسِلَة سلسله موی کلیم اللہ کے مسیح کی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (ال عمران : ۱۲۴) ترجمہ: اور اس پہلے بدر کی جنگ میں جبکہ تم حقیر تھے اللہ یقینا تمہیں مدد دے چکا ہے۔