تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 254 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 254

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵۴ سورة الفاتحة هُدَى الْمُهْتَدِينَ وَتَبِعَ سُنَنَ الْكَامِلِينَ اور کامل لوگوں کے طریقوں کا متبع ہو اور ہدایت یافتہ لوگوں وَ تَأَهَبَ لِلْإِنْصِبَاغِ بِصِبْغِ الْمَهْدِيِّينَ کے رنگ سے رنگین ہونے کے لئے تیار ہو اور ا اور اپنے تمام وَعَطَفَ إِلَيْهِمْ بِجَمِيعِ إِرَادَتِهِ وَقُوَّتِهِ ارادوں اور قوت اور دل سے اُن کی طرف مائل ہو اور وَجَنَانِهِ وَأَدَّى شَرْطَ السُّلُوكِ بِحَسَبِ حتی الامکان سلوک کے شرائط ادا کرے اور اپنے اقوال کو إِمْكَانِهِ وَشَفَعَ الْأَقْوَالَ بِالْأَعْمَالِ اعمال سے اور قال کو حال سے مطابق کرے اور ان لوگوں وَالْمَقَالَ بِالْحَالِ وَدَخَلَ فِي الَّذِينَ میں داخل ہو جائے جو خدائے قادر ذوالجلال کی طرف سے يَتَعَاطَوْنَ كَأْسَ الْمَحَبَّةِ لِلْقَادِرِ ذِی محبت کا پیالہ لیتے ہیں اور ذکر اللہ کے چقماق سے تضرع اور الْجَلَالِ وَيَقْتَدِحُونَ زَنَادَ ذِكْرِ الله عاجزی کے ذریعہ روشنی حاصل کرتے ہیں اور رونے والوں بِالتَّضَرُّعِ وَالْإِبْتِهَالِ وَيَبْكُونَ مَعَ کے ساتھ روتے ہیں تب ( بندہ کے اس مقام پر پہنچنے پر ) الْبَاكِينَ فَهُنَالِكَ يَفُورُ بَحْرُ رَحْمَةِ اللهِ الله تعالیٰ کی رحمت کا سمندر جوش مارتا ہے تا اُس شخص کو تمام لِيُطَهِّرَهُ مِنَ الْأَوْسَانِ وَالْأَدْرَانِ قسم کی روحانی میل کچیل سے پاک کرے اور تا اُسے وَلِتُرْوِيَهُ بِأَفَاضَةِ التَّهْتَانِ ثُمَّ يَأْخُذُ موسلا دھار (روحانی) بارش کے فیضان سے سیراب کرے۔ يَدَهُ وَيُرْقِيهِ إِلَى أَعْلَى مَرَاتِبِ الْإِرْتِقَاءِ پھر وہ اُس کی دستگیری کرتا ہے اور اُسے ارتقاء اور عرفان کے وَالْعِرْفَانِ وَيُدْخِلُهُ فِي الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ اعلیٰ مراتب پر پہنچاتا ہے اور اُس کو اُن لوگوں میں داخل کر قَبْلِهِ مِنَ الصُّلَحَاءِ وَالْأَوْلِيَاءِ وَالرُّسُلِ دیتا ہے جو صالحین ، اولیاء ، رسولوں اور نبیوں میں سے اُس وَالنَّبِيِّينَ فَيُعْطَى كَمَالًا كَمِثْلِ سے پہلے گزر چکے ہیں ۔ پس اُسے اُن کے کمالات کی طرح كَمَالِهِمْ وَجَمَالًا كَمِثْلِ جَمَالِهِمْ کمال اور اُن کے جمال کی طرح جمال اور اُن کے جلال کی وَجَلَالًا كَمِثْلِ جَلَالِهِمْ ۔ طرح جلال عطا کیا جاتا ہے۔ وَ قَدْ يَقْتَضِي الزَّمَانُ وَالْمَصْلَحَةُ اور کبھی زمانہ اور مصلحت اس امر کی مقتضی ہوتی ہے کہ ایسا أَنْ يُرْسَلَ هَذَا الرَّجُلُ عَلَى قَدَمِ نَبِي شخص ایک خاص نبی کے قدم پر بھیجا جائے پھر اُسے اُس نبی خَاضٍ فَيُعْطَى لَهُ عِلْمًا كَعِلْمِهِ وَعَقْلاً کا سا علم ، اور اُس کی عقل کی سی عقل ، اور اس کے نور کا سانور، كَعَقْلِهِ وَنُورًا كَنُورِهِ وَاسْما کاسمیہ اور اُس کے نام کا سا نام دیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ اُن دونوں وَيَجْعَلُ اللهُ أَرْوَاحَهُمَا كَمَرَايَا مُتَقَابَلَةٍ کی روحوں کو اُن آئینوں کی طرح بنا دیتا ہے جو آمنے سامنے