تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 251 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 251

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵۱ سورة الفاتحة مِنْ زُمَرٍ لَّا يَعُودُونَ إِلَى الدُّنْيَا الدَّنِيَّةِ وَ ہے جو اس حقیر دنیا میں واپس نہیں آئیں گے۔ اگر تم إِنْ شِئْتَ فَاقْرَأْ فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا چاہو تو فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ پڑھ لو اور الْمَوْتَ ، وَاعْلَمْ أَنَّ الرُّجُوعَ حَرَامٌ بَعْدَ معلوم کر لو کہ موت کے بعد ( اس دنیا کی طرف ) لوٹنا الْمَنِيَّةِ وَ حَرَامٌ عَلَى قَرْيَةٍ أَهْلَكَهَا اللهُ أَنْ حرام ہے اور اس بستی کا جسے اللہ تعالیٰ ہلاک کر دے تُبْعَثَ قَبْلَ يَوْمِ النُّشُورِ وَأَمَّا الْإِحْيَاءُ قیامت سے پہلے زندہ اُٹھایا جانا حرام ہے۔ لیکن معجزہ بِطَرِيقِ الْمُعْجِزَةِ فَلَيْسَ فِيْهِ الرُّجُوعُ إِلَی کے طور پر زندہ ہونے کا مطلب اس دنیا کی طرف لوٹنا الدُّنْيَا الَّتِي هِيَ مَقَامُ الظُّلْمِ وَالزُّوْرِ ثُمَّ نہیں جو ظلم اور فریب کا گھر ہے ۔ جو ظلم اور فریب کا گھر ہے۔ پھر جب مسیح کی موت إِذَا ثَبَتَ مَوْتُ الْمَسِيحِ بِالنَّضِ الطَّرِيح نص صریح سے ثابت ہوگئی اور اللہ تعالیٰ نے فصیح بیان فَأَزَالَ اللهُ وَهُمَ نُزُولِهِ مِنَ السَّمَاءِ بِالْبَيَانِ میں اُس کے آسمان سے اُترنے کے وہم کا ازالہ کر دیا۔ الْفَصِيحِ وَأَشَارَ فِي سُورَةِ النُّورِ وَ الْفَاتِحَةِ اور سورۃ نور اور سورۃ فاتحہ میں اشارہ کیا کہ یہ امت ظلی أَنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ يَرِثُ أَنْبِيَاءَ بَنِي إِسْرَائِيلَ طور پر بنی اسرائیل کے انبیاء کی وارث ہوگی تو یہ بات عَلَى الطَّرِيقَةِ الظُّلْيَّةِ فَوَجَبَ أَنْ يَأْتِي فِي آخِرِ لازم ہوگئی کہ آخری زمانہ میں اس امت میں بھی مسیح الزَّمَانِ مَسِيحُ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ كَمَا أَتى آئے گا جس طرح عیسی بن مریم موسوی سلسلہ کے آخر عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ فِي آخِرِ السِّلْسِلَةِ میں آئے تھے۔ کیونکہ حضرت موسیٰ اور حضرت محمد الْمُوْسَوِيَّةِ فَإِنَّ مُوسَى وَمُحَمَّدًا عَلَيْهِمَا ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہر دو پر خدائے رحمان کا درود اور صَلَوَاتُ الرَّحْمَنِ مُتَمَاثِلَانِ بِنَضِ الْفُرْقَانِ۔ سلام ہو، قرآنی نص کے رُو سے ایک دوسرے کے وَ إِنَّ سِلْسِلَةَ هَذِهِ الْخِلَافَةِ تُشَابِهُ سِلْسِلَة مثیل ہیں اور اس خلافت کا سلسلہ اُس سلسلہء خلافت تِلْكَ الْخِلَافَةِ كَمَا هِيَ مَنْ كُورَةٌ فِي الْقُرْآنِ سے مشابہت رکھتا ہے۔ جیسا کہ قرآن کریم میں اس وَفِيهَا لَا يَخْتَلِفُ اثْنَانِ وَ قَدِ اخْتَتَمَتْ سلسلہ کا ذکر موجود ہے اور اس بارہ میں کوئی دو آدمی مِنَاتُ سِلْسِلَةِ خُلَفَاءِ مُوسَی عَلی عیسی مختلف نہیں اور خلفاء موسی کے سلسلہ کی صدیاں چودھویں كَمِثْلِ عِدَّةِ أَيَّامِ الْبَدْرِ فَكَانَ مِنَ الْوَاجِبِ کے چاند کی گنتی کے مطابق حضرت عیسی پرختم ہو گئیں أَنْ يَظْهَرَ مَسِيحُ هَذِهِ الْأُمَّةِ فِي مُدَّةٍ هِيَ پس ضروری تھا کہ اس اُمت کا مسیح اسی قدر عرصہ میں كَمِثْلِ هُذَا الْقَدْرِ ، وَقَدْ أَشَارَ إِلَيْهِ الْقُرْآنُ فِي ( رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ) ظاہر ہو اور اس (الزمر: ۴۳) ترجمہ: ترجمہ: جس کی موت کا حکم جاری کر چکا ہوتا ہے اس کی روح کو روکے رکھتا ہے۔