تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 246
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴۶ سورة الفاتحة تِلْكَ الْأَنْبِيَاءِ أَتَتْرُكُ الْقُرْآنَ وَ فِي | نبیوں میں سے کیوں گمان کرتے ہو۔ کیا تم قرآن کریم کو الْقُرْآنِ كُلُّ الشَّفَاءِ أَوْ تَغَلَّبَتْ عَلَيْكَ چھوڑتے ہو حالانکہ ہر قسم کی شفاء قرآن کریم میں ہے۔ شِقْوَتُكَ فَتَتْرُكُ مُتَعَمِّدًا طَرِيقَ کیا تم پر تمہاری بدبختی غالب آ گئی ہے اور تم عمداً ہدایت دو الْاِهْتِدَاءِ أَلَا تَرَى قَوْله تَعَالى كہا کا رستہ ترک کر رہے ہو۔ کیا تم اس سورۃ میں اللہ تعالیٰ اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ * فِي هَذِهِ كے الفاظ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ کو نہیں 66 66 - السُّورَةِ فَوَجَبَ أَنْ يَكُونَ الْمَسِيحُ الاتی دیکھتے ۔ پس ضروری ہوا کہ آنے والا مسیح اسی اُمت میں مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ لَا مِنْ غَيْرِهِمْ بِالضُّرُورَةِ سے ہو نہ کہ اُمت کے باہر سے۔ کیونکہ گما کا لفظ فَإِنَّ لفظ كَمَا يَأْتِي لِلْمُشَابَهَةِ وَ مشابہت اور مماثلت کے لئے آتا ہے اور مشابہت کسی الْمُمَاثَلَةِ وَالْمُشَابَهَةُ تَقْتَضِي قَلِيلاً من قدر مغائرت کو چاہتی ہے اور یہ ایک بدیہی امر ہے کہ الْمُغَايَرَةِ، وَلَا يَكُونُ شَيْءٍ مُشَابِهَ نَفْسِهِ کوئی چیز اپنے آپ کے مشابہ نہیں ہوا کرتی۔ پس قطعی كَمَا هُوَ مِنَ الْبَدِيهِيَّاتِ فَثَبَتَ بِنَضٌ نص سے ثابت ہو گیا کہ جس عیسی کا انتظار کیا جا رہا ہے وہ قطعِي أَنَّ عِيسَى الْمُنْتَظَرَ مِنْ هَذِهِ اِس اُمت میں سے ہے اور یہ بات یقینی اور شبہات سے الْأُمَّةِ وَهُذَا يَقِينِي وَمُنَزَّهُ عَنِ الشُّبُهَاتِ پاک ہے یہ قرآن کریم کا فرمودہ ہے اور عالم لوگ اسے هُذَا مَا قَالَ الْقُرْآنُ وَيَعْلَمُهُ الْعَالِمُونَ خوب جانتے ہیں ۔ پس اس کے بعد تم کونسی بات مانو فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ تُؤْمِنُونَ وَقَدْ گے؟ اور قرآن کریم نے تو کہہ دیا ہے کہ عیسیٰ اللہ تعالیٰ قَالَ الْقُرْآنُ إِنَّ عِيسَى نَبِيِّ اللهِ قَدْ کے نبی فوت ہو گئے ہیں ۔ پس تم خدا تعالیٰ کے قول فَلَمَّا مَاتَ فَفَكَّرْ فِي قَوْلِهِ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي تَوَفَّيْتَنِي (المائدہ: ۱۱۸) میں غور کرو اور مُردوں کو زندہ وَلَا تُحْيِ الْأَمْوَاتَ وَلَا تَنْصُرِ النَّصَارَى قرار نہ دو اور اس طرح فضول باتوں اور بیہودہ کہانیوں بِالْأَبَاطِيلِ وَ الْخُزَعْبِيْلَاتِ وَفِتَنُهُمْ سے عیسائیوں کی مدد نہ کرو۔ ان کے فتنے پہلے ہی کچھ کم لَيْسَتْ بِقَلِيلَةٍ فَلَا تَزِدْهَا بِالْجَهَلَاتِ وَإِنْ نہیں ہیں ۔ تم اپنی نادانیوں سے ان میں اضافہ نہ کرو۔ كُنْتَ تُحِبُّ حَيَاةَ نَبِي فَا مِنْ بِحَيَاةِ نَبِيِّنَا اگر تمہیں کسی نبی کا زندہ رہنا پسند ہو تو تم ہمارے نبی خَيْرِ الْكَائِنَاتِ وَمَا لَكَ أَنَّكَ تَحْسَبُ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات پر ایمان لے آؤ مَيْتًا مَنْ كَانَ رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ وَ تَعْتَقِدُ اور تمہیں کیا ( ہو گیا ) ہے کہ تم رحمتہ للعالمین کو تو فوت شدہ (النور : ۵۶) ترجمہ : جس طرح اس نے ان سے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنایا تھا۔