تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 247 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 247

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴۷ سورة الفاتحة أَنَّ ابْنَ مَرْيَمَ مِنَ الْأَحْيَاءِ بَلْ مِنَ | خیال کرتے ہو اور ابن مریم کے متعلق تمہارا عقیدہ ہے کہ الْمُحْيِينَ أَنْظُرُ إِلَى النُّورِ " ثُمَّ انْظُرُ وہ زندوں بلکہ (دوسروں کو زندہ کرنے والوں میں سے إلَى الْفَاتِحَةِ ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ لِيَرْجِعَ ہے۔ تم سورۃ نور کو دیکھو اور پھر سورۃ فاتحہ پرغور کرو۔ پھر الْبَصَرُ بِالدَّلَائِلِ الْقَاطِعَةِ أَلَسْتَ تَقْرَأُ نظر دوڑاؤ تا وہ دلائل قاطعہ لے کر آئے۔ کیا تم اس صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ فِي هَذِهِ سورت میں صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ( کے الفاظ ) السُّورَةِ، فَأَنَّى تُؤْفَكُ بَعْدَ هَذَا أَتنسی نہیں پڑھتے تو پھر اس کے بعد تم کدھر بہک رہے ہو؟ کیا دُعَاءَكَ أَوْ تَقْرَأُ بِالْغَفْلَةِ فَإِنَّكَ سَأَلْتَ تم اپنی دُعا کو بھول جاتے ہو؟ یا اس کو غفلت کی حالت میں عَنْ رَّبِّكَ فِي هَذَا الدُّعَاءِ وَالْمَسْأَلَةِ أَن لَّا پڑھتے ہو؟ تم نے تو اس دُعا اور التجاء میں اللہ تعالیٰ سے یہ يُغَادِرَ نَبِيًّا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ إِلَّا وَيَبْعَثَ مانگا تھا کہ بنی اسرائیل کے نبیوں میں سے ایسا کوئی نبی نہ مَثِيْلَهُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ وَيْحَكَ أَنَسِيتَ رہنے دے مگر اُس کا مثیل اِس اُمت میں مبعوث دُعَاءَكَ بِهَذِهِ السُّرْعَةِ مَعَ أَنَّكَ تَقْرَأُهُ في فرمائے۔ تم پر افسوس ! کیا تم نے اپنی دُعا کو اتنی جلدی بھلا الْأَوْقَاتِ الْخَمْسَةِ عَجِبْتُ مِنْكَ كُلَّ دیا۔ باوجود اس کے کہ تم پانچ وقت یہ دُعا پڑھتے ہو۔ مجھے الْعَجَبِ أَهْذَا دُعَاؤُكَ وَ تِلْكَ ارَاؤُكَ تو تم پر انتہائی تعجب ہے کہ یہ تمہاری دعا ہے اور یہ تمہارے دیکھو اور پھر انْظُرُ إِلَى الْفَاتِحَةِ وَانْظُرُ إِلَى سُورَةِ النُّورِ خیالات ہیں۔ ذرا ( سورۃ ) فاتحہ کی طرف دیکھو مِنَ الْفُرْقَانِ وَ أَيُّ شَاهِدٍ يُقْبَلُ بَعْدَ فرقانِ مجید کی سورۃ نور پر بھی غور کرو۔ قرآن کی شہادت شَهَادَةِ الْقُرْآنِ فَلَا تَكُنْ كَالَّذِی سَری کے بعد اور کسی گواہ ( کی گواہی ) قبول کی جائے گی۔ تم إِيجَاسَ خَوْفِ اللهِ وَاسْتِشْعَارَهُ وَ اُس شخص کی طرح مت بنو جس نے خدا کے خوف کا ظاہری تَسَرْبَلَ لِبَاسَ الْوَقَاحَةِ وَشِعَارَهُ اور باطنی احساس ترک کر دیا بلکہ بے حیائی کو اپنا لباس اور أَتَتْرُكُ كِتَابَ اللهِ لِقَوْمٍ تَرَكُوا الطَّرِيقَ اپنا شعار بنا لیا ہو۔ کیا تم اُن لوگوں کی خاطر اللہ تعالیٰ کی وَمَا كَمَّلُوا التَّحْقِيقَ وَ التَّعْمِيقَ وَ إِنَّ کتاب کو چھوڑ دو گے جنہوں نے سیدھا راستہ ترک کر دیا طَرِيقَهُمْ لَا يُوصِلُ إِلَى الْمَطْلُوبِ وَقَدْ اور اپنی تحقیق اور غور وفکر کومکمل نہ کیا۔ ان کا راستہ مطلوب خَالَفَ التَّوْحِيدَ وَسُبُلَ اللهِ الْمَحْبُوبِ تک نہیں پہنچاتا بلکہ وہ توحید اور خدائے محبوب کی راہوں فَلَا تَحْسَبُ وَعْرًا دَمِنًا وَإِنْ دَمَّتَهُ كَثِيرٌ کے خلاف ہے۔ پس تو سخت (راستہ) کو نرم خیال نہ کر۔