تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 244
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴۴ سورة الفاتحة الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ مُصَلِّينَ وَ مُمْسِيْنَ وَ یہ کہ منعم علیہ گروہ یعنی نبیوں اور رسولوں کا راستہ مُصْبِحِيْنَ وَأَنْ تَطْلُبَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمَ طلب کرتے رہیں۔ اس میں یہ اشارہ ہے کہ اُس نے شروع عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَ الْمُرْسَلِينَ أَشَارَ سے ہی مقدر کر رکھا ہے کہ بعض نیک لوگوں کو نبیوں کے إِلَى أَنَّهُ قَدْ قَدَّرَ مِنَ الْابْتِدَاءِ أَنْ يَبْعَثَ فِي نقشِ قدم پر اس امت میں مبعوث کرتا رہے گا اور هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْضَ الصَّلَحَاءِ عَلَى قَدَمِ اُنہیں اُسی طرح خلیفہ بنا دیگا جیسا کہ اُس نے اس سے الْأَنْبِيَاءِ أَنْ يَسْتَخْلِفَهُمْ كَمَا اسْتَخْلَفَ پہلے بنی اسرائیل سے خلفاء بنائے تھے اور یقیناً یہی الَّذِينَ مِنْ قَبْلُ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَإِنَّ ( بات ) حق ہے۔ پس تو فضول جھگڑے اور قیل وقال هُذَا لَهُوَ الْحَقُّ فَاتْرُكِ الْجَدَلَ الْفُضُول چھوڑ دے اور اللہ تعالیٰ کا منشاء یہ تھا کہ اس امت میں وَالْأَقَاوِيلَ وَكَانَ غَرَضُ اللهِ أَنْ يَجْمَعَ في مختلف کمالات اور گوناگوں اخلاق جمع کر دے۔ پس هَذِهِ الْأُمَّةِ كَمَالَاتٍ مُتَفَرِّقَةً وَ أَخْلَاقًا اللہ کی اس قدیم سنت نے تقاضا کیا کہ وہ یہ دعا سکھائے مُتَبَدِّدَةً فَاقْتَضَتْ سُنَّتُهُ الْقَدِيمَةُ أَنْ اور پھر اس کے بعد جو چاہے وہ کر دکھائے ۔ قرآن کریم يُعَلِّمَ هُذَا الدُّعَاءَ ثُمَّ يَفْعَلُ مَا شَاءَ وَقَدْ میں اس اُمت کا نام خیر الامم (یعنی بہترین اُمت ) سُمِّيَ هَذِهِ الْأُمَّةُ خَيْرَ الْأُمَمِ فِي الْقُرْآنِ وَلَا رکھا گیا ہے اور خیر اُسی وقت حاصل ہو سکتی ہے جبکہ عمل ، يَحْصُلُ خَيْرٌ إِلَّا بِزِيَادَةِ الْعَمَلِ وَالْإِيمَانِ ایمان، علم اور عرفان میں اضافہ ہو اور خدائے رحما رحمان کی وَالْعِلْمِ وَالْعِرْفَانِ وَابْتِغَاءِ مَرَضَاتِ اللهِ خوشنودی طلب کی جائے۔ اور اسی طرح اللہ تعالیٰ نے الرَّحْمَنِ۔ وَكَذَالِكَ وَعَدَ الَّذِينَ آمَنُوا اُن لوگوں سے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَتَهُمْ فِي کئے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ اُنہیں اپنے فضل اور عنایت الْأَرْضِ بِالْفَضْلِ وَالْعِنَايَاتِ كَمَا سے اسی دنیا میں ضرور خلیفہ بنائے گا جیسا کہ اُس نے اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِنْ أَهْلِ ان سے قبل نیکوکاروں اور متقیوں کو خلیفہ بنایا تھا۔ پس الصَّلَاحِ وَالتَّقَاةِ فَثَبَتَ مِنَ الْقُرْآنِ أَنَّ قرآن کریم سے ثابت ہو گیا کہ مسلمانوں میں روز الْخُلَفَاءَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ- قیامت تک خلفاء آتے رہیں گے اور یہ کہ آسمان سے وَ أَنَّهُ لَنْ يَأْتِي أَحَدٌ مِنَ السَّمَاءِ بَلْ يُبْعَثُونَ کوئی نہیں آئے گا یہ سب لوگ اس امت سے مبعوث مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ کئے جائیں گے۔