تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 243
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴۳ سورة الفاتحة عُرِضَتْ عَلَيْهِ وَ بَعْدَ مِنْ عَيْنِ الْخَيْرِ وَ | بینائی سے دُور ہو گیا اور ( انبیاء و مرسلین سے ) یہ قطع تعلق رشتہ عَنْ نُّورِ عَيْنَيْهِ وَإِنَّ هَذَا الْقَطَعَ أَكْبَرُ داروں اور قبیلہ سے قطع تعلق کرنے سے بھی بڑا ہے۔ یہ لوگ من قطع الرَّحْممِ وَ الْعَشِيرَةِ وَ إِنَّهُمْ جنت کے پھل ہوتے ہیں۔ پس اس شخص پر افسوس ہے جو ثَمَرَاتُ الْجَنَّةِ فَوَيْلٌ لِلَّذِي تَرَكَهُمْ وَ انہیں چھوڑ کر صرف کھانے پینے والی چیزوں کی طرف مائل ہو مَالَ إِلَى الْمِيرَةِ وَ إِنَّهُمْ نُورُ اللهِ وَ جائے ۔ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کا ایک نور ہیں اور ان کے ذریعہ يُعْطَى بِهِمْ نُورٌ لِلْقُلُوبِ وَتِرْيَاقُ لِسَم ( لوگوں کے دلوں کو روشنی اور گناہوں کے زہر کے لئے الذُّنُوبِ وَسَكِينَةٌ عِنْدَ الْإِحْتِضَارِ وَ تریاق دیا جاتا ہے اور جان کندنی اور غرغرہ کے وقت سکینت الْغَرْغَرَةِ وَثَبَاتُ عِنْدَ الرَّحْلَةِ وَتَرْكِ اور رحلت اور اس حقیر دنیا کو ترک کرنے کے وقت ثبات عطا الدُّنْيَا الدَّنِيَّةِ کیا جاتا ہے۔ أَتَظُنُّ أَن يَكُونَ الْغَيْرُ كَمِثْلِ هَذِهِ کیا تو خیال کرتا ہے کہ کوئی اور بھی اس صاحب شرف الْفِئَةِ الْكَرِيمَةِ كَلَّا وَالَّذِي أَخْرَجَ جماعت جیسا ہو سکتا ہے؟ مجھے اُس ذات کی قسم جس نے گٹھلی الْعَذْقَ مِنَ الْجَرِيمَةِ وَلِذَالِكَ عَلَّمَ الله سے کھجور کا درخت پیدا کیا (اس جماعت جیسا ہرگز هُذَا الدُّعَاءَ مِنْ غَايَةِ الرَّحْمَةِ وَأَمَرَ نہیں ( ہو سکتا ) اس لئے خدا تعالیٰ نے اپنی انتہائی رحمت سے الْمُسْلِمِينَ أَنْ يَطْلُبُوا صِرَاطَ الَّذِينَ یہ دعا سکھائی اور مسلمانوں کو یہ حکم دیا کہ وہ خدا تعالیٰ سے اُن أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ لوگوں کا راستہ طلب کریں جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا ہے وَالْمُرْسَلِينَ مِنَ الْحَضْرَةِ وَقَدْ ظَهَرَ یعنی نبیوں اور رسولوں کا راستہ ۔ اِس آیت سے ہر اُس شخص پر مِنْ هَذِهِ الْآيَةِ عَلَى كُلِّ مَنْ لَّهُ حَقٌّ جسے سمجھ بوجھ کا کچھ حصہ ملا ہے واضح ہو جاتا ہے کہ اس اُمت مِنَ الدِّرَايَةِ أَنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ قَدْ بُعِثَتُ کو نبیوں کے قدم پر قائم کیا گیا ہے اور ایسا کوئی نبی نہیں جس کا على قَدَمِ الْأَنْبِيَاءِ وَإِنْ مِنْ نَّبِي إِلَّا لَهُ مثیل اُس اُمت میں نہ پایا جاتا ہو۔ اگ اگر یہ مشابہت اور مَثِيلٌ فِي هُؤُلَاءِ وَلَوْلَا هُذِهِ الْمُضَاهَاةُ مماثلت نہ ہوتی تو پہلوں جیسے کمال کا طلب کرنا بھی عبث وَالسَّوَاءُ لَبَطَلَ طَلَبُ كَمَالِ ٹھہرتا اور دُعا بھی باطل ہو جاتی ۔ پس اللہ تعالیٰ جس نے ہم السَّابِقِينَ وَبَطَلَ الدُّعَاءُ فَالله الذي سب کو نماز پڑھتے وقت اور صبح کے وقت اور شام کے وقت أَمَرَنَا أَجْمَعِينَ أَنْ تَقُوْلَ اهْدِنَا اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دعا مانگنے کا حکم دیا ہے اور