تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 241
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴۱ سورة الفاتحة سَنَذْكُرُهَا بِالتَّصْرِيحَاتِ وَ نُرِيكَ مَا | تمہیں وہ دلائل اور بینات دکھائیں گے جو ہمیں خدا تعالیٰ أَرَانَا اللهُ مِنَ الدَّلَائِلِ وَ الْبَيِّنَاتِ نے دکھائے ہیں ۔ پس تم مجھ سے ان آیات کی کی تفسیر سنو فَاسْمَعْ مِنِّي تَفْسِيرَهَا لَعَلَّ اللهَ يُنْجِيكَ تا اللہ تعالیٰ تمہیں باطل خیالات سے نجات عطا کرے۔ مِنَ الْخُزَعْبِيْلَاتِ أَمَّا قَوْلُهُ تَعَالَى اهْدِنَا كلامِ الہى اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کے معنی یہ ہیں کہ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ، فَمَعْنَاهُ أَرِنَا الشَّهْجَ (اے ہمارے پروردگار) ہمیں سیدھا رستہ دکھا اور ہمیں الْقَوِيمَ وَثَبِّتْنَا عَلَى طَرِيقٍ يُوصِلُ إلى اس راستہ پر قائم رکھ جو تیری جناب تک پہنچا تا ہو اور تیری حَضْرَتِكَ وَيُنَجِّي مِنْ عُقُوبَتِكَ ثُمَّ سزا سے بچاتا ہو۔ پھر واضح ہو کہ صوفیوں کے نزدیک اعْلَمُ أَنَّ لِتَحْصِيْلِ الْهِدَايَةِ طُرُقًا عِنْدَ ہدایت کے حصول کے کئی طریق ہیں جو کتاب (الہی ) اور الصُّوفِيَّةِ مُسْتَخْرَجَةً مِّنَ الْكِتَابِ وَ سنت (رسول) سے اخذ کئے گئے ہیں ان میں سے پہلا السُّنَّةِ أَحَدُهَا طَلَبُ الْمَعْرِفَةِ بِالدَّلِيلِ طریق دلیل اور برہان کے ساتھ خدا کی معرفت طلب کرنا وَالْحُجَّةِ وَالثَّانِي تَصْفِيَةُ الْبَاطِنِ بِأَنْوَاعِ ہے۔ دوسرا طریق مختلف قسم کی ریاضتوں کے ذریعہ اپنے الرِّيَاضَةِ وَالثَّالِثُ الْإِنْقِطَاعُ إِلَى اللهِ باطن کو صاف کرنا ہے اور تیسرا (طریق) ہے سب سے وَصَفَاءُ الْمَحَبَّةِ وَ طَلَبُ الْمَدَدِ مِن کٹ کر اللہ تعالیٰ کی طرف رخ کرنا اور اُس سے اپنی محبت الْحَضْرَةِ بِالْمُوَافَقَةِ التَّامَّةِ وَ بِنَفْیِ کو خالص کرنا اور اس کی صفات سے پوری موافقت پیدا التَّفْرِقَةِ وَبِالتَّوْبَةِ إِلَى اللهِ وَ الْابْتِهَالِ وَ کر کے اور خدا سے علیحد گی ترک کر کے تو بہ ، زاری ، دُعا اور الدُّعَاءِ وَعَقْدِ الْهِمَّةِ۔ عقد ہمت کے ساتھ بارگاہ ایزدی سے مدد طلب کرنا ہے۔ ثُمَّ لَمَّا كَانَ طَرِيقُ طَلَبِ الْهَدَايَةِ وَ پھر چونکہ تلاش ہدایت اور تصفیہ نفس کا طریق ائمہ اور التَّصْفِيَّةِ لَا يَكْفِي لِلْوُصُولِ مِنْ غَيْرِ اُمت کے ہدایت یافتہ لوگوں کے وسیلہ کے بغیر وصول الی اللہ تَوَكَّلِ الْأَعْمَةِ وَالْمَهْدِيِّينَ مِنَ الْأُمَّةِ مَا کے لئے کافی نہیں اس لئے خدا تعالیٰ محض اس قدر ( یعنی رَضِيَ اللهُ سُبْحَانَهُ عَلَى هَذَا الْقَدَرِ مِنْ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ تک) دعا سکھانے پر راضی نہ ہوا تَعْلِيمِ الدُّعَاءِ - بَلْ حَثَّ بِقَوْلِهِ صِرَاطَ بلکہ اس نے صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کہہ کر ان الَّذِينَ عَلَى تَحَسُّسِ الْمُرْشِدِينَ وَ مرشدوں اور ہادیوں کی تلاش کی ترغیب دلائی جو صاف الْهَادِينَ مِنْ أَهْلِ الْإِجْتِهَادِ وَ الْاِصْطِفَاءِ باطن اور اجتہاد کرنے والے لوگوں میں سے ہادی اور