تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 240
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام الد ۔ سورة الفاتحة جس سے خدا ملتا ہے اس کی یہی روح ہے جو بیان کی گئی جس کو سمجھنا ہو سمجھ لے۔ اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۱۹ تا ۴۲۱) کی ، استقامت ۔۔۔۔۔ وہی ہے جس کو صوفی لوگ اپنی اصطلاح میں فنا کہتے ہیں اور اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کے معنے بھی فنا ہی کے کرتے ہیں۔ یعنی روح ، جوش اور ارادے سب کے سب اللہ تعالیٰ کے لئے ہو جائیں اور اپنے جذبات اور نفسانی خواہشیں بالکل مرجائیں ۔ بعض انسان جو اللہ تعالیٰ کی خواہش اور ارادے کو اپنے ارادوں اور جوشوں پر مقدم نہیں کرتے وہ اکثر دفعہ دنیا ہی کے جوشوں اور ارادوں کی ناکامیوں میں اس دنیا سے اُٹھ جاتے ہیں ۔۔۔۔۔ نماز جو دعا ہے اور جس میں اللہ کو جو خدائے تعالیٰ کا اسم اعظم ہے مقدم رکھا ہے۔ ایسا ہی انسان کا اسم اعظم استقامت ہے۔ اسمِ اعظم سے مراد یہ ہے کہ جس ذریعہ سے انسانیت کے کمالات حاصل ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ میں اس کی طرف ہی اشارہ فرمایا ہے اور ایک دوسرے مقام پر فرمایا کہ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا ( حم السجدۃ: ۳۱) یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے نیچے آ گئے اور اس کے اسم اعظم استقامت کے نیچے جب بیضہء بشریت رکھا گیا پھر اس میں اس قسم کی استعداد پیدا ہو جاتی ہے کہ ملائکہ کا نزول اس پر ہوتا ہے اور کسی قسم کا خوف وحزن اُن کو نہیں رہتا۔ میں نے کہا ہے کہ استقامت بڑی چیز ہے۔ استقامت سے کیا مراد ہے؟ ہر ایک چیز جب اپنے عین محل اور مقام پر ہو وہ حکمت اور استقامت سے تعبیر پاتی ہے مثلاً دوربین کے اجزا کو اگر جدا جدا کر کے اُن کو اصل مقامات سے ہٹا کر دوسرے مقام پر رکھ دیں وہ کام نہ دے گی ۔ غرض وَضْعُ الشَّيْء في محله کا نام استقامت ہے یا دوسرے الفاظ میں یہ کہو کہ ہیئت طبعی کا نام استقامت ہے۔ پس جب تک انسانی بناوٹ کو ٹھیک اسی حالت پر نہ رہنے دیں اور اسے مستقیم حالت میں نہ رکھیں وہ اپنے اندر کمالات پیدا نہیں کر سکتی ۔ دُعا کا طریق یہی ہے کہ دونوں اسم اعظم جمع ہوں اور یہ خدا کی طرف جاوے کسی غیر کی طرف رجوع نہ کرے خواہ وہ اس کی ہوا و ہوس ہی کا بت کیوں نہ ہو؟ جب یہ حالت ہو جائے تو اس وقت ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ (المؤمن: ٦١ ) کا مزا آ جاتا ہے۔ (ملفوظات جلد سوم صفحہ ۳۵ تا ۳۷ منقول از ٹریکٹ بعنوان حضرت اقدس کی ایک تقریر اور مسئلہ وحدت الوجود ایک خط مرتبہ حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی ) اعْلَمُ أَنَّ هَذِهِ الْآيَاتِ خَزِينَةٌ واضح رہے کہ یہ آیات لطیف نکات سے پرخزانہ ہیں اور قَمْلُوَّةٌ مِنَ النِّكَاتِ وَحُجَّةٌ بَاهِرَةٌ مخالف مردوں اور مخالف عورتوں کے خلاف روشن دلیل ہیں۔ عَلَى الْمُخَالِفِينَ وَ الْمُخَالِفَاتِ وَ ہم عنقریب ان کا تصریحات کے ساتھ ذکر کریں گے اور ہم