تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 239 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 239

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۳۹ سورة الفاتحة معرض خطر میں پاویں اور کوئی تسلی دینے والی بات موجود نہ ہو یہاں تک کہ خدا تعالیٰ بھی امتحان کے طور پر تسلی دینے والے کشف یا خواب یا الہام کو بند کر دے اور ہولناک خوفوں میں چھوڑ دے۔ اس وقت نا مردی نہ دکھلاویں اور بزدلوں کی طرح پیچھے نہ ہٹیں اور وفاداری کی صفت میں کوئی خلل پیدا نہ کریں۔ صدق اور ثبات میں کوئی رخنہ نہ ڈالیں۔ ذلت پر خوش ہو جا ئیں ۔ موت پر راضی ہو جائیں اور ثابت قدمی کے لئے کسی دوست کا انتظار نہ کریں کہ وہ سہارا دے۔ نہ اس وقت خدا کی بشارتوں کے طالب ہوں کہ وقت نازک ہے اور باوجود سراسر بے کس اور کمزور ہونے کے اور کسی تسلّی کے نہ پانے کے سیدھے کھڑے ہو جائیں اور ہر چہ باداباد کہہ کر گردن کو آگے رکھ دیں اور قضاء و قدر کے آگے دم نہ ماریں اور ہر گز بے قراری اور جزع فزع نہ دکھلاویں جب تک کہ آزمائش کا حق پورا ہو جائے۔ یہی استقامت ہے جس سے خدا ملتا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کی رسولوں اور نبیوں اور صدیقوں اور شہیدوں کی خاک سے اب تک خوشبو آ رہی ہے۔ اسی کی طرف اللہ جل شانہ اس دُعا میں اشارہ فرماتا ہے ۔ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ یعنی اے ہمارے خدا! ہمیں استقامت کی راہ دکھلا ۔ وہی راہ جس پر تیرا انعام واکرام مترتب ہوتا ہے اور تو راضی ہو جاتا ہے اور اسی کی طرف اس دوسری آیت میں اشارہ فرمایا رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَ تَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ (الاعراف: ۱۲۷) اے خدا ! اس مصیبت میں ہمارے دل پر وہ سکینت نازل کر جس سے صبر آجائے۔ اور ایسا کر کہ ہماری موت اسلام پر ہو۔ جاننا چاہئے کہ دکھوں اور مصیبتوں کے وقت میں خدا تعالیٰ اپنے پیارے بندوں کے دل پر ایک نورا تارتا ہے جس سے وہ قوت پا کر نہایت اطمینان سے مصیبت کا مقابلہ کرتے ہیں اور حلاوت ایمانی سے ان زنجیروں کو بوسہ دیتے ہیں جو اس کی راہ میں ان کے پیروں میں پڑیں۔ جب با خدا آدمی پر بلائیں نازل ہوتی ہیں اور موت کے آثار ظاہر ہو جاتے ہیں تو وہ اپنے ربّ کریم سے خواہ مخواہ کا جھگڑا شروع نہیں کرتا کہ مجھے ان بلاؤں سے بچا۔ کیونکہ اس وقت عافیت کی دعا میں اصرار کرنا خدا تعالیٰ سے لڑائی اور موافقت تامہ کے مخالف ہے بلکہ سچا محب بلا کے اترنے سے اور آگے قدم رکھتا ہے اور ایسے وقت میں جان کو ناچیز سمجھ کر اور جان کی محبت کو الوداع کہہ کر اپنے مولیٰ کی مرضی کا بکلی تابع ہو جاتا ہے اور اس کی رضا چاہتا ہے۔ اس کے حق میں اللہ جَلَّ شَانُهُ فرماتا ہے وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْرِى نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ وَ اللهُ رَءُوفٌ بِالْعِبَادِ (البقرة: ۲۰۸) یعنی خدا کا پیارا بندہ اپنی جان خدا کی راہ میں دیتا ہے اور اس کے عوض میں خدا کی مرضی خرید لیتا ہے۔ وہی لوگ ہیں جو خدا تعالیٰ کی رحمت خاص کے مور د ہیں ۔ غرض وہ استقامت