تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 229 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 229

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲۹ سورة الفاتحة والے خدا جو رب العالمین رحمن رحیم مالک یوم الدین ہے تیری ہی عبادت ہم کرتے ہیں ۔ یہ ہر چہار صفات جو اُم الصفات کہلاتی ہیں معبودانِ باطلہ میں کہاں پائی جاتی ہیں جو لوگ پتھروں یا درختوں یا حیوانات اور اور چیزوں کی پرستش کرتے ہیں ان میں ان صفات کو ثابت نہیں کر سکتے ۔ اور اسی طرح إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ میں ان لوگوں کا رد ہے جو دعا اور اُس کی قبولیت کے منکر ہیں ۔ (الحکم جلدے نمبر ۱۹ مؤرخہ ۲۴ رمئی ۱۹۰۳ صفحہ ۲،۱) انسان کو چاہئے کہ ہر وقت إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کی دُعا پر کار بند رہے اور اُسی سے توفیق طلب کرے۔ ایسا کرنے سے انسان خدا کی تجلیات کا مظہر بھی بن سکتا ہے۔ چاند جب آفتاب کے مقابل میں ہوتا ہے تو اُسے نور ملتا ہے مگر جوں جوں اُس سے کنارہ کشی کرتا ہے توں توں اندھیرا ہوتا جاتا ہے۔ یہی حال ہے انسان کا جب تک اُس کے دروازہ پر گرا ر ہے اور اپنے آپ کو اُس کا محتاج خیال کرتا رہے تب تک اللہ تعالیٰ اُسے اُٹھاتا اور نواز تا تا ہے ورنہ جب وہ اپنی قوت بازو پر بھروسا کرتا ہے تو وہ ذلیل کیا جاتا ہے کُونُوا مَعَ الصُّدِقِينَ (التوبة : ۱۱۹) بھی اسی واسطے فرمایا گیا ہے۔ (الحکم جلدے نمبر ۹ مؤرخه ۱۰ / مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۳) توحید تین قسم کی ہے ایک توحید علمی کہ جو تصحیح عقائد سے حاصل ہوتی ہے۔ دوسری توحید توحید عملی کہ جو قوی اخلاقی کو خدا کے راستہ میں کرنے سے یعنی فنافی اخلاق اللہ سے حاصل ہوتی ہے۔ تیسری توحید حالی جو اپنے ہی نفس کا حال اچھا بنانے سے حاصل ہوتی ہے یعنی نفس کو کمال تزکیہ کے مرتبہ تک پہنچانا اور غیر اللہ سے صحن قلب کو بالکل خالی کرنا۔ اور نابود اور بے نمود ہو جانا یہ توحید بوجہ کامل تب میسر آتی ہے کہ جب جذ بہ الہی انسان کو پکڑے اور بالکل اپنے نفس سے نابود کر دے اور بحجر فضل الہی کے نہ یہ علم سے حاصل ہو سکتی ہے اور نہ عمل سے۔ اسی کے لئے عابدین مخلصین کی زبان پر نعرہ إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ہے۔ (الحکم جلد ۹ نمبر ۳۳ مؤرخه ۲۴ ستمبر ۱۹۰۵ صفحه ۴) استغفار کے یہ معنے ہیں کہ انسانی قومی جو کرتوت کر رہے ہیں ان کا افراط و تفریط یعنی بے محل استعمال نافرمانی ہوتا ہے تو خدا کا لطف و کرم مانگنا کہ تو رحم کر اور ان کے استعمال کی افراط و تفریط سے محفوظ رکھ یعنی اللہ تعالیٰ سے امداد طلب کرنی ہے ۔ مسیح بھی خدا تعالیٰ کی مدد کے محتاج تھے۔ اگر کوئی اس طرح نہیں سمجھتا تو وہ مسلمان نہیں۔ بڑا فنا فی اللہ وہ ہے جو کہ ہر آن خدا کی امداد چاہتا ہے جیسے إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ۔ البدر جلد نمبر ۲ مؤرخہ ۷ نومبر ۱۹۰۲ ء صفحہ ۱۳) انسانی حکومتوں کے احکام گناہوں سے نہیں بچا سکتے ۔ حکام ساتھ ساتھ تو نہیں پھرتے کہ ان کو خوف رہے۔ انسان اپنے آپ کو اکیلا خیال کر کے گناہ کرتا ہے ورنہ وہ کبھی نہ کرے۔ اور جب وہ اپنے آپ کو اکیلا