تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 230 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 230

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۳۰ سورة الفاتحة سمجھتا ہے اس وقت وہ دہر یہ ہوتا ہے اور یہ خیال نہیں کرتا کہ میرا خدا میرے ساتھ ہے۔ وہ مجھے دیکھتا ہے۔ ورنہ اگر وہ یہ سمجھتا تو کبھی گناہ نہ کرتا۔ تقویٰ سے سب شئے ہے۔ قرآن نے ابتدا اسی سے کی ہے۔ اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ سے مراد بھی تقویٰ ہے کہ انسان اگر چہ عمل کرتا ہے مگر خوف سے جرات نہیں کرتا کہ استعانت طلب کرتا ہے۔ اسے اپنی طرف منسوب کرے اور اسے خدا کی استعانت سے خیال کرتا ہے اور پھر اسی سے آئندہ کے لئے البدر جلد نمبرے مؤرخہ ۱۳ دسمبر ۱۹۰۲ ء صفحه ۵۱) ان آنکھوں سے وہ نظر نہیں آتا بلکہ دعا کی آنکھوں سے نظر آتا ہے کیونکہ اگر دعا کے قبول کرنے والے کا پتہ نہ لگے تو جیسے لکڑی کو گھن لگ کر وہ کمی ہو جاتی ہے ویسے ہی انسان پکار پکار کر تھک کر آخرد ہر یہ ہو جاتا ہے ایسی دعا چاہیئے کہ اس کے ذریعہ ثابت ہو جاوے کہ اس کی ہستی برحق ہے جب اس کو یہ پتہ لگ جاوے گا تو اس وقت وہ اصل میں صاف ہو گا۔ یہ بات اگر چہ بہت مشکل نظر آتی ہے لیکن اصل میں مشکل بھی نہیں ہے بشرطیکہ تدبیر اور دُعا دونوں سے کام لیوے جیسے إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کے معنوں میں (ابھی تھوڑے دن ہوئے ) بتلایا گیا ہے نماز پوری پڑھو۔ صدقہ اور خیرات دو تو پوری نیت سے دو کہ خدا راضی ہو جاوے اور توفیق طلب کرتے رہو کہ ریا کاری عُجب وغیرہ زہریلے اثر جس سے ثواب اور اجر باطل ہوتا ہے دور ہو جاویں اور دل اخلاص سے بھر جاوے۔ خدا پر بدظنی نہ کرو وہ تمہارے لیے ان کاموں کو آسان کر سکتا ہے وہ رحیم کریم ہے۔ با کریماں کا ر ہا دشوار نیست۔ اگر پیچھے لگے رہو گے تو اسے رحم آ ہی جائے گا۔ البدر جلد ۳ نمبر ۱۱ مورخه ۱۶ / مارچ ۱۹۰۴ ء صفحه (۸) قرآن شریف میں جو بڑے بڑے وعدے متقیوں کے ساتھ ہیں وہ ایسے متقیوں کا ذکر ہے جنہوں نے تقویٰ کو وہاں تک نبھایا جہاں تک ان کی طاقت تھی۔ بشریت کے قومی نے جہاں تک ان کا ساتھ دیا برابر تقویٰ پر قائم رہے حتی کہ ان کی طاقتیں ہار گئیں اور پھر خدا تعالیٰ سے انہوں نے اور طاقت طلب کی جیسے کہ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ سے ظاہر ہے إِيَّاكَ نَعْبُدُ یعنی اپنی طاقت تک تو ہم نے کام کیا اور کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ یعنی آگے چلنے کے لئے اور نئی طاقت تجھ سے طلب کرتے ہیں جیسے کہ حافظ نے کہا ہے ۔ ما بداں منزل عالی نتوانیم رسید ہاں اگر لطف شما پیش نہد گامے چند البدر جلد ۳ نمبر ۲۲، ۲۳ مورخه ۸ تا ۱۶ رجون ۱۹۰۴ ء صفحه ۲)