تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 228
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲۸ سورة الفاتحة کا ظاہری باطنی قیام اور زندگی انہیں دونوں صفات کے طفیل سے ہے پس حتی کا لفظ چاہتا ہے کہ اس کی عبادت کی جائے جیسا کہ اس کا مظہر سورۃ فاتحہ میں اِيَّاكَ نَعْبُدُ ہے اور الْقَیوم چاہتا ہے کہ اس سے سہارا طلب کیا جاوے اس کو اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کے لفظ سے ادا کیا گیا ہے۔ (الحکم جلد ۶ نمبر ۱۰ مؤرخه ۷ ار مارچ ۱۹۰۲ صفحه ۵ ) إِيَّاكَ نَعْبُدُ سے صاف پایا جاتا ہے کہ کچھ نہیں چاہتے تیری عبادت کرتے ہیں اور إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ سے دعا کرتے ہیں گویا اِيَّاكَ نَعْبُدُ اور اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ میں ادْعُونِي اَسْتَجِبْ لَكُمُ (المؤمن : ۶۱) اور لَنَبْلُوَنَّكُمُ (البقرۃ:۱۵۶) کو ملایا ہے نَعْبُدُ تو یہی ہے کہ بھلائی بُرائی کا خیال نہ رہے سلب اُمید واما امید وامانی ہو۔ اور إِيَّاكَ و نَسْتَعِينُ میں دُعا کی تعلیم ہے۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۳۶ مؤرخه ۱۰ را کتوبر ۱۹۰۲ء صفحه ۱۴) إِيَّاكَ نَعْبُدُ میں جہاں الرب ، الرحمن الرحیم ، مالک یوم الدین کے حسن و احسان کی طرف سے تحریک ہوتی ہے وہاں انسان کی عاجزی اور بے کسی بھی ساتھ ہی محرک ہوتی ہے اور وہ إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کہہ اُٹھتا ہے۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۳۶ مؤرخہ ۲۶ جولائی ۱۹۰۸ء صفحه ۳) إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ میں تقویٰ ہی کی تعلیم ہے اس سے بڑھ کر کون متقی ہو سکتا ہے جو عبادت کر کے پھر استعانت چاہتا ہے۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۴۴ مؤرخه ۱۰ دسمبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۷ ) بعض لوگ کہتے ہیں کہ نماز میں لذت نہیں آتی مگر میں بتلاتا ہوں کہ بار بار پڑھے اور کثرت کے ساتھ پڑھے تقویٰ کے ابتدائی درجہ میں قبض شروع ہو جاتی ہے اس وقت یہ کرنا چاہئے کہ خدا کے پاس اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کا تکرار کیا جائے ۔ شیطان کشفی حالت میں چور یا قزاق دکھایا جاتا ہے اس کا استغاثہ جناب الہی میں کرے کہ یہ قزاق لگا ہوا ہے۔ تیرے ہی دامن کو پنجہ مارتے ہیں جو اس استغاثہ میں لگ جاتے ہیں اور تھکتے ہی نہیں وہ ایک قوت اور طاقت پاتے ہیں جس سے شیطان ہلاک ہو جاتا ہے۔ مگر اس قوت کے حصول اور استغاثہ کے پیش کرنے کے واسطے ایک صدق اور سوز کی ضرورت ہے۔ اور یہ چور کے تصور سے پیدا ہو گا جو ساتھ لگا ہوا ہے وہ گو یا ننگا کرنا چاہتا ہے اور آدم والا ابتلاء لانا چاہتا ہے۔ اس تصور سے روح چلا کر بول اُٹھے گی ۔ اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ - الحكم جلد ۵ نمبر ۶ مؤرخہ ۷ ارفروری ۱۹۰۱ صفحه ۲) نمازوں میں اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کا تکرار بہت کرو۔ اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ خدا کے فضل اور گم شدہ متاع کو واپس لاتا ہے۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۴۰ مؤرخه ۱۰ نومبر ۱۹۰۲ء صفحه (۱۲) فقره إِيَّاكَ نَعْبُدُ تمام باطل معبودوں کی تردید کرتا ہے اور مشرکین کارڈ اس میں موجود ہے۔ کیونکہ پہلے اللہ تعالیٰ کی صفات کاملہ کو بیان فرمایا ہے اُس سے مخاطب کر کے کہا گیا ہے کہ إِيَّاكَ نَعْبُدُ یعنی صفات کا ملہ