تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 222
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲۲ سورة الفاتحة 66 مَالِكًا هُذَا الْمَمْلُوكَ ثُمَّ اعْلَمْ أَنَّ اللهَ | دیتا ہے اور اس مملوک بندہ کو مالک : بنا دیتا ہے۔ نیز سمجھ لیجئے حَمِدَ ذَاتَهُ أَوَّلَّا فِي قَوْلِهِ الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے اپنے الفاظ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ الْعَلَمِينَ۔ ثُمَّ حَثَ النَّاسَ عَلَی میں اپنی حمد بیان فرمائی۔ پھر اپنے کلام إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ الْعِبَادَةِ بِقَوْلِهِ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ میں لوگوں کو عبادت کی ترغیب دی۔ پس نَسْتَعِينُ ، فَفِي هَذِهِ إِشَارَةٌ إِلى أَنَّ اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ در حقیقت عبادت الْعَابِدُ فِي الْحَقِيقَةِ هُوَ الَّذِي يَحْمَدُه گزار وہی ہے جو خدا تعالیٰ کی حمد اس طور پر کرے جو حمد کے حَقَّ الْمَحْمَدَةِ فَحَاصِلُ هَذَا الدُّعَاءِ کرنے کا حق ہے ۔ پس اس دُعا اور درخواست کا ماحصل یہ وَالْمَسْأَلَةِ أَنْ يَجْعَلَ اللهُ أَحْمَدَ كُلَّ مَنْ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کو احمد بنا دیتا ہے جو (اس تَصَدُّى لِلْعِبَادَةِ وَعَلَى هَذَا كَانَ مِن کی عبادت میں لگا ر ہے اس بنا پر ضروری تھا کہ اس اُمت الْوَاجِبَاتِ أَنْ يَكُونَ أَحْمَدُ فِي آخِرِ هَذِهِ کے آخر میں بھی کوئی احمد ظاہر ہو اس پہلے احمد کے نقش قدم پر الْأُمَّةِ عَلَى قَدَمٍ أَحْمَدَ الْأَوَّلِ الَّذِي جو سرور کائنات ( حضرت محمد ) صلی اللہ علیہ وسلم ہیں تا معلوم هُوَ سَيِّدُ الْكَائِنَاتِ لِيُفْهَمَ أَنَّ ہو جائے کہ دُعاؤں کو قبول فرمانے والی بارگاہ سے اس دُعا الدُّعَاءَ اسْتُجِيبَ مِنْ حَضْرَةِ فاتحہ کو قبولیت کا شرف حاصل ہے اور تاکہ اس (احمد ) کا مُسْتَجِيْبِ الدَّعَوَاتِ وَلِيَكُونَ ظُهُورُهُ ظہور قبولیتِ دُعا کے لئے بطور نشانات کے ہو۔ یہی وہ مسیح لِلْإِسْتِجَابَةِ كَالْعَلَامَاتِ فَهَذَا هُوَ ہے جس کا آخری زمانہ میں ظہور کا وعدہ سورۃ فاتحہ میں بھی الْمَسِيحُ الَّذِي كَانَ وَعْدُ ظُهُورِهِ فِي آخِرِ اور قرآن کریم میں بھی لکھا ہوا ہے۔ پھر اس آیت میں یہ الزَّمَانِ مَكْتُوبًا فِي الْفَاتِحَةِ وَفِي الْقُرْآنِ اشارہ بھی ہے کہ کسی بندہ کے لئے ممکن نہیں کہ اس وحدۂ ثُمَّ فِي هَذِهِ الْآيَةِ إِشَارَةٌ إِلى أَنَّ الْعَبْدَ لا لاشریک کی بارگاہ سے توفیق پانے کے بغیر عبادت کا حق ادا يُمْكِنُهُ الْإِنْيَانُ بِالْعُبُودِيَّةِ إِلَّا بِتَوْفِيقِ کرے اور عبادت کی فروع میں یہ بھی ہے کہ تم اس شخص مِنَ الْحَضْرَةِ الْأَحَدِيَّةِ وَ مِنْ فُرُوعِ سے بھی جو تم سے دشمنی رکھتا ہو ایسی ہی محبت کرو جس طرح الْعِبَادَةِ أَنْ تُحِبُّ مَنْ يُعَادِيكَ كَمَا اپنے آپ سے اور اپنے بیٹوں سے کرتے ہو اور یہ کہ تم تُحِبُّ نَفْسَكَ وَ بَنِيكَ وَأَنْ تَكُونَ دوسروں کی لغزشوں سے درگزر کرنے والے اور ان کی مُقِيلًا لِلْعَثَرَاتِ مُتَجَاوِزًا عَنِ خطاؤں سے چشم پوشی کرنے والے بنو اور نیک دل اور پاک