تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 221 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 221

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲۱ سورة الفاتحة هو يَقْبَلُهَا الْمَوْلَى بِأَمْتِنَانِهِ هِيَ التَّذلل | کرم و احسان سے قبول فرماتا ہے ( وہ درحقیقت چند امور پر النَّامُ بِرُؤْيَةِ عَظَمَتِهِ وَ عُلُو شَأْنِهِ مشتمل ہے ) یعنی اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کی بلند و بالا وَالثَّنَاءُ عَلَيْهِ بِمُشَاهَدَةِ مِنَنِهِ وَأَنْوَاعِ شان کو دیکھ کر مکمل فروتنی اختیار کرنا نیز اس کی مہربانیاں اور إِحْسَانِهِ ۖ وَإِيْشَارُهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ بِمَحَبَّةِ قسم قسم کے احسان دیکھ کر اس کی حمد و ثنا کرنا ، اس کی ذات حَضْرَتِهِ وَتَصَورِ فَحَامِدِهِ وَجَمَالِهِ وَ سے محبت رکھتے ہوئے اور اس کی خوبیوں جمال اور نور کا لَمَعَانِهِ، وَتَطْهِيرُ الْجَنَانِ مِنْ وَسَاوِس تصور کرتے ہوئے اسے ہر چیز پر ترجیح دینا اور اس کی جنت الْجَنَّةِ نَظَرًا إِلَى جِنَانِهِ وَ مِنْ أَفْضَلِ کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اپنے دل کو شیطانوں کے وسوسوں الْعِبَادَاتِ أَنْ يَكُونَ الْإِنْسَانُ مُحَافِظًا سے پاک کرنا ہے۔ اور سب سے افضل عبادت یہ ہے کہ عَلَى الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ فِي أَوَائِلِ انسان التزام کے ساتھ پانچوں نمازیں ان کے اول وقت أَوْقَاتِهَا وَأَنْ تَجْهَدَ لِلْحُضُورِ وَ النَّوْقِ پر ادا کرنے اور فرض اور سنتوں کی ادائیگی پر مداومت رکھتا ہو وَالشَّوْقِ وَتَحْصِيلِ بَرَكَاتِهَا مُوَاظِبا اور حضور قلب ، ذوق ، شوق اور عبادت کی برکات کے حصول عَلَى أَدَاءِ مَفْرُوضَاتِهَا وَمَسْنُونَاتِهَا۔ میں پوری طرح کوشاں رہے کیونکہ نماز ایک ایسی سواری فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَرْكَبُ يُوصِلُ الْعَبْدَ إِلى ہے جو بندہ کو پروردگار عالم تک پہنچاتی ہے۔ اس کے ذریعہ رَبِّ الْعِبَادِ فَيَصِلُ بِهَا إِلى مَقَامٍ لَّا (انسان) ایسے مقام تک پہنچ جاتا ہے جہاں گھوڑوں کی يَصِلُ إِلَيْهِ عَلَى صَهَوَاتِ الْجِيَادِ پیٹھوں پر بیٹھ کر ) نہ پہنچ سکتا۔ اور نماز کا شکار ( ثمرات ) وَصَيْدُهَا لَا يُصَادُ بِالسَّهَامِ ، وَسِرُّهَا لا تیروں سے حاصل نہیں کیا جا سکتا اس کا راز قلموں سے ظاہر يَظْهَرُ بِالْأَقْلامِ وَمَنِ الْتَزَمَ هَذِهِ نہیں ہو سکتا ہے اور جس شخص نے اس طریق کو لازم پکڑا اس الطَّرِيقَة فَقَدْ بَلَغَ الْحَقِّ وَ الْحَقِيقَةَ وَ نے حق اور حقیقت کو پالیا اور اس محبوب تک پہنچ گیا جو غیب أَلْقَى الْحِبَّ الَّذِي هُوَ فِي حُجُبِ الْغَيْبِ وَ کے پردوں میں ہے اور شک و شبہ سے نجات حاصل کر لی۔ نَجَا مِنَ الشَّكِ وَالرَّيْبِ فَتَرَى أَيَّامَه پس تو دیکھے گا کہ اس کے دن روشن ہیں اس کی باتیں موتیوں غُرَرًا وَ كَلَامَهُ دُرَرًا وَ وَجْهَهُ بَدْرًا کی مانند ہیں اور اس کا چہرہ چودھویں کا چاند ہے۔ اس کا وَمَقَامَهُ صَدْرًا وَ مَنْ ذَلَّ لِلَّهِ فِي مقام صدر نشینی ہے جو شخص نماز میں اللہ تعالیٰ کے لئے صَلَوَاتِهِ أَذَلَّ اللهُ لَهُ الْمُلُوكَ وَ يَجْعَلُ عاجزی سے جھکتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے بادشاہوں کو جھکا