تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 223 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 223

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲۳ سورة الفاتحة الْهَفَوَاتِ وَ تَعِيْشَ تَقِيًّا نَقِيًّا سَلِيم نفس ہو کر پرہیز گاروں والی صاف اور پاکیزہ زندگی الْقَلْبِ طَيِّبَ الذَّاتِ وَوَفِيًّا صَفِيًّا مُنَزِّهَا گزارو۔ اور تم بُری عادتوں سے پاک ہوکر باوفا اور باصفا عَنْ ذَمَائِمِ الْعَادَاتِ وَأَنْ تَكُونَ وُجُودًا زندگی بسر کرو۔ اور یہ کہ خلق اللہ کے لئے بلا تکلف و تصنع نَافِعًا لِخَلْقِ اللهِ بِخَاصِيَّةِ الْفِطْرَةِ بعض نباتات کی مانند نفع رساں وجود بن جاؤ۔ اور یہ کہ تم كَبَعْضِ النَّبَاتَاتِ مِنْ غَيْرِ التَّكَلَّفَاتِ اپنے کبر سے اپنے کسی چھوٹے بھائی کو دکھ نہ دو۔ اور نہ وَالتَّصَنْعَاتِ وَأَنْ لَّا تُؤْذِي أَخَيَّكَ بِكِبْرِ کسی بات سے اس (کے دل) کو زخمی کرو۔ بلکہ تم پر مِنْكَ وَلَا تَجْرَحَهُ بِكَلِمَةٍ مِّنَ الْكَلِمَاتِ بَل واجب ہے کہ اپنے ناراض بھائی کو خاکساری سے عَلَيْكَ أَنْ تُجِيبَ الْأَخَ الْمُغْضَبَ بِتَوَاضُع جواب دو اور اسے مخاطب کرنے میں اس کی تحقیر نہ کرو وَلَا تُحَقِّرَهُ فِي الْمُخَاطَبَاتِ وَتَمُوتَ قَبْلَ اور مرنے سے پہلے مرجاؤ اور اپنے آپ کو مردوں میں شمار أَنْ تَمُوْتَ وَتَحْسِبَ نَفْسَكَ مِنَ الْأَمْوَاتِ کرلو اور جو کوئی ( ملنے کے لئے) تمہارے پاس آئے وَتُعَظِمَ كُلَّ مَنْ جَاءَكَ وَلَوْ جَاءَكَ في اس کی عزت کرو خواہ وہ پرانے بوسیدہ کپڑوں میں ہو نہ کہ الْأَعْمَارِ لَا فِي الْخَلَلِ وَالْكِسَوَاتِ وَتُسَلَّمَ نے جوڑوں اور عمدہ لباس میں۔ اور تم ہر شخص کو السلام علیکم عَلَى مَنْ تَعْرِفُهُ وَ عَلَى مَنْ لَّا تَعْرِفُهُ وَ کہو خواہ تم اسے پہچانتے ہو یا نہ پہچانتے ہو۔ اور (لوگوں کی غم خواری کے لئے ہر دم تیار کھڑے رہو۔ تَقُوْمُ مُتَصَدِّيَّا لِلْمُوَاسَاتِ۔ ( ترجمه از مرتب ) اعجاز اسیح ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۱۶۵ تا ۱۶۹) فرماتا ہے إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ یعنی یہ دعا کرو کہ ہم تیری پرستش کرتے ہیں اور تجھ سے ان تمام باتوں میں مدد چاہتے ہیں سو یہ تمام اشارے نیستی اور تذلیل کی طرف ہیں۔ تا انسان اپنے تئیں کچھ چیز نہ سمجھے۔ ست بچن ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه (۲۱۲) ہر یک کام دینی ہو یا دنیوی اُس میں استمداد سے پہلے اپنی خداداد طاقت اور ہمت کا خرچ کرنا ضروری ہے اور پھر اس فعل کی تکمیل کے لئے مدد طلب کرنا۔ خدا نے ہم کو ہماری ہر روزہ عبادت میں بھی یہی تعلیم دی ہے اور ارشاد فرمایا ہے کہ ہم إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کہیں نہ یہ کہ إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ وَ إِيَّاكَ نَعْبُدُ ( براہین احمد یہ چہار تخصص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۱۳۷ ، ۱۳۸ ) انسان کا ظہور ایک خالق کو چاہتا تھا اور ایک قیوم کو، تا خالق اس کو پیدا کرے اور قیوم اس کو بگڑنے سے محفوظ رکھے۔ سو وہ خدا خالق بھی ہے اور قیوم بھی۔ اور جب انسان پیدا ہو گیا تو خالقیت کا کام تو پورا ہو گیا مگر قیومیت کا