تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 220 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 220

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲۰ سورة الفاتحة 66 66 نُكْتَةً مِنْ هُدَاهُ وَيَسْمَعُ مَرْحَبَاهُ فَهُوَ | انداز نہیں کرتا ۔ مالک کی طرف سے خوش آمدید سنتا ہے تو یہی الَّذِي يَجْمَعُ فِي نَفْسِهِ هَذِهِ الثَّلاثَ (ایسا شخص ) ہے جو اپنی ذات میں ان تین (صفات ) کو کامل سَوِيًّا وَلَا يُؤْذِي مَوْلَاهُ بِخِيَانَةٍ وَحَدْلٍ طور پر جمع کرتا ہے اور اپنے آقا کو اپنی بددیانتی اور بے انصافی وَلَا يُطَحْطِحُهُ بِكَسَلٍ أَوْ جَهْلٍ فَيَصِيرُ سے دکھ نہیں دیتا اور نہ اسے کاہلی یا نادانی سے اُسے کاہلی یا نادانی سے برباد کرتا ہے اور عَبْدًا مَّرْضِيًّا۔ فَهَذِهِ هِيَ الْأَشراط وہ ایک پسندیدہ عبد بن جاتا ہے۔ پس یہی تین شرائط ہیں ان الثَّلَاثَةُ لِلَّذِينَ يَسْلُكُونَ سُبُلَ رَسم لوگوں کے لئے جو پورے طالب ہدایت ہو کر اپنے ربّ مُسْتَرْشِدِينَ وَفِي إِيَّاكَ نَعْبُدُ " ( تک پہنچنے ) کے راستوں پر چلتے ہیں۔ اِيَّاكَ نَعْبُدُ میں إِشَارَةُ إِلَى الشَّرْطِ الْأَوَّلِ وَ إِلَى پہلی شرط کی طرف اشارہ ہے اور دوسری شرط کی طرف إِيَّاكَ الشَّرْطِ الثَّانِي فِي إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ نَسْتَعِينُ میں اور تیسری شرط کی طرف اِهْدِنَا الصِّرَاطَ میں وَإِلَى الثَّالِثِ فِي اهْدِنَا الصِّرَاطَ " اشارہ ہے۔ پس سعادت انہی لوگوں کے لئے ہے جو ان فَطُوبَى لِلَّذِينَ جَمَعُوا هَذِهِ الثَّلاثَ تینوں ( صفات ) کو اپنے اندر جمع کر لیں اور کامل ہو کر اپنے وَرَجَعُوا إِلَى رَبِّهِمْ كَامِلِينَ وَتَأَدَّبُوا مَعَ رب کی طرف لوٹیں ۔ وہ اپنے ربّ کے ساتھ پورے ادب رَبِّهِمْ بِكُلِّ الْأَدَبِ وَسَلَكُوا بِكُلِّ کا لحاظ رکھتے ہیں اور منازل سلوک ہر شرط کے مطابق بغیر شَرِيطَةٍ غَيْرَ قَاصِرِينَ فَأُولئِكَ کسی کو تاہی کے طے کرتے ہیں ۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جن الَّذِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ سے خدا تعالیٰ راضی ہے اور وہ خدا تعالیٰ سے راضی ہیں ۔ وہ وَدَخَلُوا حَظِيرَةَ الْقُدْسِ امِنِينَ وَ بارگاہ قدس میں امن کے ساتھ داخل ہو گئے ہیں ۔ پس چونکہ لَمَّا كَانَتْ هَذِهِ الشَّرَائِطُ أَهَمَّ الْأُمُورِ یہ شرائط اس شخص کے لئے اہم امور میں سے تھے جونور کی لِلَّذِي قَصَدَ سُبُلَ النُّوْرِ جَعَلَهَا الله راہوں کا قصد کرتا ہے اس لئے حکیم خدا نے ان ( شرائط ) کو الْحَكِيمُ مِنْ أَجْزَاءِ الدُّعَاءِ لِيَتَدَبَّرَ دعا کے حصے بنادیا ہے۔ تاہر سالک عقلمندوں کی طرح غور وفکر السَّالِكَ كَالْعُقَلَاءِ وَ لِيَسْتَبِينَ کرے اور خیانت کرنے والوں کی راہ بھی پوری طرح واضح سَبِيلُ الْخَائِنِينَ۔ کرامات الصادقین ، روحانی خزائن جلدے صفحہ ۱۴۶ تا ۱۴۸) ہو جائے ۔ ( ترجمہ از مرتب ) - اعْلَمْ أَنَّ حَقِيقَةَ الْعِبَادَةِ الَّتِي واضح ہو کہ اس عبادت کی حقیقت جسے اللہ تعالیٰ اپنے