تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 178
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۷۸ سورة الفاتحة فَقَامُوا عَلَيْهِ كَالْأَعْدَاءِ - فَأُرْسِلَ عِنْدَ | وقت خدا تعالیٰ کے بندوں میں سے ایک بندہ هُذَا الضُّعْفِ وَذَهَابِ الشَّوْكَةِ عَبْد من مبعوث کیا گیا۔ تا وہ اس (روحانی پانی کے ) قحط زدہ الْعِبَادِ لِيَتَعَهَّدَ زَمَانًا مَّا جِلاً تَعَهَّد زمانہ کو بارش کی طرح سیراب کرے پس یہ وہی مسیح موعود الْعِهَادِ وَ ذَالِكَ هُوَ الْمَسِيحُ الْمَوْعُودُ ہے جو اسلام کے ضعف کے وقت آیا ہے۔ تا اللہ تعالیٰ الَّذِي جَاءَ عِنْدَ ضُعْفِ الْإِسْلَامِ لِيُرِى محض اپنے فضل سے لوگوں کو جب کہ وہ چو وہ چوپایوں اللهُ نَمُوذَجَ الْحَشْرِ وَالْبَعْثِ وَالْقِيَامِ کی طرح (روحانی ) موت مر چکے تھے حشر و نشر اور وَنَمُوذَجَ يَوْمِ الدِّينِ إِنْعَامًا مِنْهُ بَعْدَ بعث بعد الموت ۔ قیامت اور جزا سزا کے دن کا نمونہ مَوْتِ النَّاسِ كَالْأَنْعَامِ فَاعْلَمْ أَنَّ هَذَا دکھائے ۔ پس جان لو کہ یہی زمانہ یوم الدین ہے اور تم الْيَوْمَ يَوْمُ الدِّينِ وَسَتَعْرِفُ صِدْقَنَا یقیناً ہماری سچائی کو جان لو گے۔ اگر چہ کچھ وقت کے بعد وَلَوْ بَعْدَ حِينٍ۔ وو ہی سہی۔ وَهُهُنَا نُكْتَةٌ كَشْفِيَّةٌ لَّيْسَتْ مِنَ یہاں ایک کشفی نکتہ ہے جو پہلے کبھی نہیں سنا گیا۔ پس الْمَسْمُوعِ فَاسْمَعْ مُصْغِيًا وَ عَلَيْكَ كان لگا کر اطمینان سے سنو اور وہ نکتہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بِالْمَوْدُوعِ وَهُوَ أَنَّهُ تَعَالَى مَا اخْتَارَ نے یہاں اپنی ذات کے لئے چار صفات کو محض اس لئے لِنَفْسِهِ هُهُنَا أَرْبَعَةً مِّنَ الصَّفَاتِ إِلَّا اختیار کیا ہے کہ تاوہ اس دنیا میں ہی انسان کو (یعنی دنیا لِيُرِيَ نَمُوذَجَهَا فِي هَذِهِ الدُّنْيَا قَبْلَ کی موت سے پہلے ان صفات کا نمونہ دکھائے۔ پس الْمَمَاتِ فَأَشَارَ فِي قَوْلِهِ " لَهُ الْحَمْدُ فِي اُس نے اپنے کلام لَهُ الْحَمْدُ فِي الْأُولَى وَالْآخِرَةِ میں الأولى وَ الْآخِرَةِ إِلى أَنَّ هَذَا النَّمُوذَج اشارہ فرمایا کہ یہ نمونہ آغاز اسلام میں بھی عطا کیا جائے گا۔ يُعْطَى لِصَدْرِ الْإِسْلَامِ ثُمَّ لِلْآخَرِينَ مِنَ اور پھر اُمت کی خواری کے بعد اس کے آخری لوگوں کو الْأُمَّةِ الدَّاخِرَةِ وَكَذَالِكَ قَالَ فِي مَقَامٍ بھی ( عطا کیا جائے گا ) اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ایک اور اخَرَ وَهُوَ أَصْدَقُ الْقَائِلِينَ خُلةٌ مِّنَ جگہ (قرآن میں ) فرمایا ہے اور وہ بات کرنے والوں الْأَوَّلِينَ وَقُلَةٌ مِنَ الْآخِرِينَ ، فَقَسَمَ زَمَانَ میں سے سب سے زیادہ سچا ہے خُلةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ الْهِدَايَةِ وَالْعَوْنِ وَالنُّصْرَةِ إِلَى زَمَانِ وَثُلَةٌ مِنَ الْآخِرينَ ۔ پس اللہ تعالیٰ نے ہدایت، مدد ۔ (القصص: اے) ترجمہ۔ ابتدائے آفرینش میں بھی وہی تعریف کا مستحق تھا اور آخرت میں بھی وہی تعریف کا مستحق ہوگا۔ ** (الواقعة : ۴۱،۴۰) ترجمہ (اصحاب الیمین کا) یہ گروہ شروع میں ایمان لانے والے لوگوں میں بھی کثرت سے ہوگا اور آخر میں ایمان لانے والے لوگوں میں بھی کثرت سے ہوگا۔