تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 177
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام 122 سورة الفاتحة فَحَاصِلُ مَا أُبْصِرُ وَأَرَى أَنَّ نَبِيَّنَا خَيْرُ | جانشین ہیں اور دائرہ ظلیت کو کامل کرنے والے اور سب الْوَرَى قَدْ وَرِثَ صِفَتَى رَبَّنَا الْأَعْلى رسالتوں کے خاتم ہیں۔ پس جو کچھ میں دیکھتا اور پاتا ہوں ثُمَّ وَرِثَ الصَّحَابَةُ الْحَقِيقَةَ اس کا ماحصل یہ ہے کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمام الْمُحَمَّدِيَّةَ الْجَلَالِيَّةَ كَمَا عَرَفْتَ فِيما مخلوقات سے افضل ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی ان ہر دو صفتوں کے مَطَى وَقَدْ سُلَّمَ سَيْفُهُمْ في قطع وارث ہوئے پھر جیسا کہ آپ پہلے معلوم کر چکے ہیں صحابہ دَابِرِ الْمُشْرِكِينَ وَ لَهُمْ ذِكْرٌ لا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جلالی حقیقت کے وارث بنے۔ اور يُنْسَى عِنْدَ عَبَدَةِ الْمَخْلُوقِينَ وَ مشرکوں کا قلع قمع کرنے میں ان کی تلوار کی دھاک مسلم ہے إِنَّهُمْ أَدَّوْا حَقَّ صِفَةِ الْمُحَمَّدِيَّةِ وَ اور ان کی یاد ایسا امر ہے کہ مخلوق کے پجاری اسے بھلا نہیں أَذَاقُوا كَثِيرًا مِنَ الْأَيْدِي الْحَرْبِيَّةِ وَ سکتے ۔ انہوں نے صفتِ محمدیت کا پورا پورا حق ادا کر دیا ہے بَقِيَتْ بَعْدَ ذَالِكَ صِفَةُ الْأَحْمَدِيَّةِ اور انہوں نے بہتوں کو اپنے جنگی کارناموں کا مزا چکھایا۔ الَّتِي مُصَبَّغَةٌ بِالْأَلْوَانِ الْجَمَالِيَّةِ اب رہی صفت احمدیت جو جمالی رنگوں سے رنگین ہے اور مُحَرَّقَةٌ بِالإِيرَانِ الْمُحِبِيَّةِ فَوَرِقَهَا عشق و محبت کی آگ سے سوختہ ہے۔ سومسیح موعود اس صفت الْمَسِيحُ الَّذِي بُعِثَ فِي زَمَنِ انْقِطَاعِ ( احمدیت ) کا وارث ہوا جو ذرائع ( ترقی ) کے خاتمہ، دشمنوں الْأَسْبَابِ وَتَكَشْرِ الْمِلَّةِ مِن کی کچلیوں سے ملت کی بربادی اور مددگاروں اور دوستوں کے الْأَنْيَابِ وَ فُقْدَانِ الْأَنْصَارِ وَ معدوم ہونے اور دشمنوں کے غلبہ اور مخالف جماعتوں کے حملہ الْأَحْبَابِ وَغَلَبَةِ الْأَعْدَاءِ وَ صَوْلِ کے وقت مبعوث کیا گیا تا اللہ تعالیٰ اندھیری راتوں کے بعد الْأَحْزَابِ لِيُرِيَ اللهُ نَمُوذَجَ مَالِكِ | اسلام کی قوت اور ( مسلمان ) سلاطین کے رعب کے مٹنے کے يَوْمِ الدِّينِ بَعْدَ لَيَالِي الظَّلام بعد اور ملتِ محمدیہ کے اپاہجوں کی مانند ہو جانے کے بعد اپنی وَبَعْدَ الهِدَامِ قُوَّةِ الْإِسْلَامِ وَسَطُوَةِ مالكيت يَوْمِ الدِّین کا نمونہ دکھائے۔ پس آج ہمارا دین السَّلَاطِينِ وَ بَعْدَ كَوْنِ الْمِلَّةِ بے وطنوں کی طرح ہو گیا۔ اس کی حکومت سوائے آسمان کے كَالْمُسْتَضْعَفِينَ فَالْيَوْمَ صَارَ دِينُنَا اور کہیں باقی نہیں رہی (اس وقت کے ) اہل زمین نے اس کو كَالْغُرَبَاءِ ، وَ مَا بَقِيَتْ لَهُ سَلْطَنَةٌ إِلَّا نہیں پہچانا۔ اور اسکے خلاف دشمنوں کی طرح اٹھ کھڑے في السَّمَاءِ ، وَمَا عَرَفَةَ أَهْلُ الْأَرْضِ ہوئے ہیں۔ پس اس ضعف اور شان وشوکت کے مٹنے کے