تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 154
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اولد سورة الفاتحة لِتَجِدَ شَهَادَةَ هَذَا التَّحْقِيقِ مِن بيانات ملیں گے پس تم گہری نظر سے دیکھوتا تمہیں اللہ تعالیٰ كِتَابِ اللهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔ پروردگار عالم کی کتاب سے ( میری اس ) تحقیق کی تصدیق مل (کرامات الصادقین، روحانی خزائن جلد ۷ صفحه ۱۲۸ تا ۱۳۱) جائے ۔ ( ترجمہ از مرتب ) ثُمَّ قَوْلُهُ تَعَالَى الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ پھر اللہ تعالیٰ کے کلام پاک الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ سے الْعَلَمِينَ إِلَى يَوْمِ الدِّينِ رَدُّ لَطِيفٌ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ تک کی آیات میں ایک لطیف پیرایہ میں عَلَى الدَّهْرِيِّينَ وَالْمُلْحِدِينَ دہریوں ، ملحدوں اور نیچریوں کے خیالات کی تردید ہے جو وَالطَّبِيعِيِّينَ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ خدائے بزرگ و برتر کی صفات پر ایمان نہیں رکھتے اور کہتے بِصِفَاتِ اللهِ الْمَجِيدِ وَيَقُولُونَ إِنَّهُ ہیں کہ وہ علت موجبہ کی طرح تو ہے لیکن وہ مدبر بالا رادہ كَعِلَّةٍ مُّوْجِبَةٍ وَلَيْسَ بِالْمُدَبِرِ نہیں اور اس میں انعام کرنے والے اور فیاض لوگوں کی طرح الْمُرِيدِ وَ لَا يُوجَدُ فِيهِ إِرَادَةُ ارادہ نہیں پایا جاتا تو تردید میں ) گویا اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے كَالْمُنْعِمِينَ وَالْمُعْطِينَ فَكَأَنَّهُ يَقُولُ کہ تم کس لئے مخلوقات کے پروردگار پر ایمان نہیں لاتے اور كَيْفَ لَا تُؤْمِنُونَ بِرَبِّ الْبَرِيَّةِ وَ اس کی بالا راده ربوبیت کا انکار کرتے ہو۔ حالانکہ وہی تو تمام تَكْفُرُونَ بِرَبُوبِيَّتِهِ الْإِرَادِيَّةِ وَ هُوَ جہانوں کی پرورش کرتا ہے اور وہ (سب کو ) اپنے احسانات الَّذِي يُرَبِّ الْعَالَمِينَ وَيَغْمُرُ بِنَوَالِهِ وَ سے ڈھانپتا اور اپنی قدرت اور جلال کیساتھ آسمانوں يَحْفَظُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِقُدْرَتِهِ اور زمین کی حفاظت فرماتا ہے۔ جو لوگ اس کی اطاعت کرتے وَ جَلَالِهِ وَ يَعْرِفُ مَنْ أَطَاعَةَ وَ مَنْ ہیں ان کو بھی اور جو نافرمانی کرتے ہیں ان کو بھی خوب جانتا عَطَى فَيَغْفِرُ الْمَعَاصِيَ أَوْ يُؤَدِّبُ ہے۔ پس گناہگاروں کے گناہ معاف کر دیتا ہے یا سزا سے ان بِالْعَصَا وَ مَنْ جَاءَهُ مُطِیعًا فَلَہ کی اصلاح کرتا ہے لیکن جو شخص فرمانبردار بن کر اس کے جَنَّتَانِ وَحَقَّتْ بِهِ فَرْحَتَانِ فَرْحَةٌ پاس آئے ۔ اس کے لئے دو جنتیں ہیں اور دو خوشیاں اس کا يُصِيبُهُ مِن اسْمِ الرَّحِيمِ وَأُخْرَى احاطہ کر لیتی ہیں ایک خوشی تو اسے صفت رحیمیت سے ملتی ہے مِنَ الرَّحْمَنِ الْقَدِيمِ فَيُجْزَى جَزَاء اور دوسری خوش رحمانیت کی قدیم صفت سے ملتی ہے۔ پس أَوْفَى مِنَ اللهِ الْأَعْلَى وَيُدْخَلُ في اسے اللہ بلند و برتر کی طرف سے پوری پوری جزا دی جاتی ہے۔ الْفَائِزِينَ وَلَا شَكَ أَنَّ هَذِهِ اور وہ با مرادلوگوں میں داخل کر دیا جاتا ہے۔ لاریب یہ صفات