تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 153 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 153

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵۳ سورة الفاتحة فَيَأْخُذُونَ بِطَوْرٍ جَدِيدٍ حَظًّا مِنْ رُبُوبِيَّةٍ | جو پہلی ربوبیت سے بالکل مختلف ہوتا ہے اور اسی طرح يُغَائِرُ رُبُوبِيَّةً سَابِقَةً وَ حَظًّا مِنْ رَّحْمَانِيَّةٍ رحمانیت سے حصہ پاتے ہیں جو پہلی رحمانیت سے مختلف مُغَابِرَ رَحْمَانِيَّةٍ أُولَى وَ حَظًّا مِنْ رَّحِيمِيَّةٍ وَ ہوتا ہے پھر وہ رحیمیت اور مالکیت سے ایسا حصہ پاتے مَالِكِيَّةٍ مُغَابِرَ مَا كَانَ فِي الدُّنْيَا فَهُنَالِكَ ہیں جو دنیا میں ملنے والے حصّہ سے مختلف ہوگا۔ اس تَكُونُ ثَمَانِيَ صِفَاتٍ تَحْمِلُهَا ثَمَانِيَةٌ مِنْ وقت ان صفات کی تعداد آٹھ ہو جائے گی ۔ جن کو اللہ مَلَائِكَةِ اللهِ بِإِذْنِ أَحْسَنِ الْخَالِقِيْنَ فَإِنَّ تعالیٰ کے آٹھ فرشتے احسن الخالقین کے اذن سے لِكُلِّ صِفَةٍ مَلَكُ مُوَكَّلْ قَدْ خُلِقَ لِتَوْزِيعِ اُٹھائیں گے اور ہر ایک صفت کے لئے ایک فرشتہ مقرر تِلْكَ الصَّفَةِ عَلَى وَجْهِ التَّدْبِيرِ وَوَضْعِهَا فِي ہوگا ۔ جو بڑے منظم طریق سے اس صفت ( کی برکات ) فَجَلَهَا وَ إِلَيْهِ إِشَارَةٌ فِي قَوْلِهِ تَعَالیٰ کو بانٹنے اور اُسے برحل رکھنے کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ فَالْمُدَبِّرَاتِ أَمْرًا * فَتَدَبَّرُ وَلَا تَكُنْ مِن اسی کی طرف اللہ تعالیٰ کے کلام فَالْمُدَبِرَاتِ اَمْرًا میں اشارہ ہے پس تو بھی غور کر اور غافلوں میں شامل نہ ہو۔ الْغَافِلِين۔ وَزِيَادَةُ الْمَلَائِكَةِ الْحَامِلِينَ فِي الْآخِرَةِ آخرت میں ملائکہ حاملین عرش کی تعداد کی زیادتی لِزِيَادَةِ تَجَلِّيَاتٍ رَبَّانِيَّةٍ وَ رَحْمَانِيَّةٍ وَ خدا کی ربوبیت، رحمانیت، رحیمیت اور مالکیت کی رَحِيمِيَّةٍ وَمَالِكِيَّةٍ عِنْدَ زِيَادَةِ الْقَوَابِلِ تجلیات کی زیادتی کی وجہ سے ہے جبکہ فیض قبول کرنے فَإِنَّ النُّفُوسَ الْمُطْمَئِنَّةَ بَعْدَ انْقِطَاعِهَا وَ والے زیادہ ہو جائیں گے۔ کیونکہ نفسِ مطمئنہ اس رُجُوعِهَا إِلَى الْعَالَمِ الثَّانِي وَ الرَّبِ دنیا سے تعلق توڑ کر دوسری دنیا اور رب کریم کی طرف الْكَرِيمِ تَتَرَقَى فِي اسْتِعْدَادَاتِهَا فَتَتَمَوَّجُ واپس لوٹنے کے بعد اپنی استعدادوں میں ترقی کرتے الرُّبُوبِيَّةُ وَ الرَّحْمَانِيَّةُ وَالرَّحِيمِيَّةُ وَ ہیں پس ان کی قابلیتوں اور استعدادوں کے مطابق الْمَالِكِيَّةُ بِحَسَبِ قَابِلِيَّاتِهِمْ وَ ( صفات الہیہ ) ربوبیت ، رحمانیت ، رحیمتیت اور مالکیت اسْتِعْدَادَاتِهِمْ كَمَا تَشْهَدُ عَلَيْهِ كُشُوفٌ موجزن ہوتی ہیں۔ جیسا کہ عارف باللہ لوگوں کے الْعَارِفِينَ وَ إِنْ كُنْتَ مِنَ الَّذِينَ أُعْطِيَ کشوف اس امر پر گواہ ہیں ۔ اور اگر تم ان لوگوں میں لَهُمْ حَقٌّ مِنَ الْقُرْآنِ فَتَجِدُ فِيهِ كَثِيرًا مِنْ سے ہو جنہیں قرآن کریم کے فہم کا کچھ حصہ عطا کیا گیا مِثْلِ هَذَا الْبَيَانِ فَانْظُرُ بِالنَّظرِ الدَّقِيقِ ہے تو تمہیں بھی اس ( کتاب مجید ) میں ایسے بہت سے النازعات: ( ترجمہ ) پھر ( دنیا کا ) کام ( چلانے ) کی تدبیروں میں لگ جاتی ہیں ۔