تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 155 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 155

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵۵ سورة الفاتحة الصَّفَاتِ تَجْعَلُ اللهَ مُسْتَحِقًا لِلْعِبَادَةِ | اللہ تعالیٰ کو عبادت کا مستحق اور سعادت کے انعامات مُعْطِيَا مِنْ عَطَايَا السَّعَادَةِ وَأَمَّا بخشنے والا قرار دیتی ہیں ۔ لیکن صرف اس کی تقدیس کا التَّقْدِيسُ وَحْدَهُ كَمَا ذُكِرَ فِي الْإِنْجِيلِ بيان جیسا کہ انجیل میں مذکور ہے روح میں عبادت کے فَلَا يُحَرِّكُ الرُّوحَ لِلْعِبَادَةِ بَلْ يَتْرُكُهَا لئے حرکت پیدا نہیں کرتا بلکہ اُسے سوئے ہوئے بیمار کی كَالنَّائِمِ الْعَلِيلِ۔ طرح رہنے دیتا ہے۔ وَأَمَّا سِرُّ هَذَا التَّرْتِيبِ الَّذِی باقی اس بات کا راز که بزرگ و برتر خدا تعالیٰ نے اخْتَارَهُ فِي الْفَاتِحَةِ رَبُّنَا الْمَجِيدُ ذُو سورۃ فاتحہ میں جس ترتیب کو اختیار کیا ہے اور دُعا اور عبادت الْمَجْدِ وَالْعِزَّةِ وَذَكَرَ الْمَحَامِدَ قَبْلَ کے ذکر سے پہلے اپنے محامد کے ذکر کو بیان فرمایا ہے سویوں ذِكْرِ الدُّعَاءِ وَالْعِبَادَةِ فَاعْلَمْ أَنَّهُ فَعَلَ جاننا چاہئے کہ اس نے ایسا اس لئے کیا ہے تا بزرگ و برتر ذلِكَ لِيُذَكَّرَ عِبَادَهُ عَظْمَةَ صِفَاتِ ذاتِ باری دُعا سے قبل اپنے بندوں کو اپنی صفات کی شان الْبَارِيءِ ذِي الْمَجْدِ وَ الْعَلَاءِ قَبْلَ یاد دلائے اور اس طرف اشارہ کرے کہ وہی حقیقی آقا ہے الدُّعَاءِ وَيُشِيرُ إِلَى أَنَّهُ هُوَ الْمَوْلى لا اس کے سوانہ تو کوئی نعمتیں دینے والا ہے اور نہ اس کے سوارحم مُنْعِمَ إِلَّا هُوَ وَلَا رَاحِمَ إِلَّا هُوَ وَلَا کرنے والا اور جزا سزا دینے والا ہے۔ بندوں کو جو بھی مُجَازِيَ إِلَّا هُوَ وَ مِنْهُ يَأْتِي كُلُّ مَا يَأْتي انعام و اکرام ملتے ہیں وہ اُسی کی طرف سے آتے ہیں الْعِبَادَ مِنَ الْآلَاءِ وَ النَّعْمَاءِ وَ هَذَا (سورۃ فاتحہ کی ) یہ ترتیب بہترین ہے اور روح کے لئے التَّرْتِيبُ أَحْسَنُ وَلِلرُّوحِ أَنْفَعُ فَإِنَّهُ بہت فائدہ بخش ہے۔ وہ سعید انسان پر خدائے رحیم کے يُظْهِرُ عَلَى السَّعِيدِ مِنَنَ اللهِ الرَّحِيمِ احسانوں کو خوب ظاہر کرتی ہے۔ اور اُسے خدائے قدیر وکریم وَيَجْعَلُهُ مُسْتَعِدًّا وَمُقْبِلًا عَلى حَضْرَةِ کی بارگاہ میں آنے کے لئے تیار کرتی اور اس کی طرف الْقَدِيرِ الْكَرِيمِ وَيَظْهَرُ مِنْهُ تَمَوج تام متوجہ کرتی ہے۔ اور اس ترتیب سے طالبانِ حق کی روحوں فِي أَرْوَاحِ الظُّلَبَاءِ كَمَا لَا يَخْفَى عَلى أَهْلِ میں پورا جوش پیدا ہوتا ہے جیسا کہ عقلمندوں پر پوشیدہ الدَّهَاءِ وَأَمَّا تَخْصِيصُ ذِكْرِ الرُّبُوبِيَّةِ نہیں لیکن ان چاروں صفات ربوبیت ، رحمانیت، رحیمیت وَالرَّحْمَانِيَّةِ وَالْمَالِكِيَّةِ فِي الدُّنْيَا اور مالکیت کا ذکر جن کا تعلق دنیا و آخرت سے ہے خاص طور وَالْآخِرَةِ فَلِأَجْلِ أَنَّ هَذِهِ الصَّفَاتِ پر اس لئے کیا گیا ہے کہ یہ چاروں خدا کی تمام صفات کی