حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 181 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 181

حقائق الفرقان ۱۸۱ سُورَة مُحَمَّدٍ إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ وَشَاقُوا الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْهُدَى لَنْ يَضُرُّوا اللَّهَ شَيْئًا وَسَيُحْبِطَ أَعْمَالَهُمْ - ترجمہ ۔ بے شک جن لوگوں نے انکار کیا اور حق کو چھپایا اور اللہ کے رستے سے روکا اور رسول کو دکھ دیا وہ بھی اس کے بعد کہ ان پر ظاہر ہو چکی راہ راست تو وہ لوگ اللہ کا کچھ بھی بگاڑ نہ سکیں گے اور قریب ہی اللہ ان کے اعمال اکارت کر دے گا (یعنی ان کے منصوبے غلط ہو جائیں گے ) ۔ تفسیر - سَيُحْبِطُ اَعْمَالَهُمْ ۔ ان کی کوششیں بارآور نہ ہوں گی اولا مگر دنیا میں ۔ ۳۶ تشهید الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ - ماہ ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۴۸۱) ٣٦ - فَلَا تَهِنُوا وَ تَدْعُوا إِلَى السَّلْمِ وَ اَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ وَاللَّهُ مَعَكُمْ وَلَنْ يتِرَكُمْ أَعْمَالَكُمْ ۔ ترجمہ ۔ تو تم بودے نہ بنو اور بلا و صلح کی طرف یعنی جنگ کرتے رہو اور تمہیں بڑھ چڑھ کر رہو گے قسم اللہ کی (اللہ ) تو تمہارے ساتھ ہے اور وہ تمہارے اعمالوں میں ہرگز تمہارا نقصان نہ کرے گا (یعنی تمہاری تدبیریں بنتی ہی جائیں گی ) ۔ تفسیر۔ جس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کا ان کو دعوی ہے۔ ان کا تو یہ حال تھا کہ جب ایک جنگ میں بعض صحابہ کی غلطی سے مومنوں کے پاؤں اکھڑ گئے تو آپ تن تنہا جس طرف سے تیروں کی بوچھاڑ ہورہی تھی۔ بڑھے اور انَا النَّبِيُّ لَا كَذِبُ أَنَا ابْنُ عَبْدِ المُطَّلِبُ کا نعرہ لگا نا شروع کیا۔ دیکھو صاحب۔ لڑائی ہے تو مجھ سے ہے۔ میں موجود ہوں ۔ اگر کوئی جاتا ہے تو جائے میں میدانِ جنگ میں موجود ہوں ۔ یہ تھا آپ کا استقلال ۔ اور یہ تھی آپ کی ہمت ۔ یہ تو نبوت کے وقت کا ذکر ہے۔ اس سے پہلے بھی آپ نے نو جوانی کے عالم میں اپنے بے عدیل بیدار مغزی کا ثبوت دیا۔ آپؐ نے نوجوانوں کی ایک انجمن بنائی جس کا کام تھا مظلوموں کی حمایت ۔ ایک مظلوم آپ کے پاس آیا۔ جس کی شکایت اس نے کی ۔ وہ بڑا آدمی تھا۔ کوئی اسے کہنے کی جرات نہیں کرتا تھا ۔ آپ خود گئے اور کچھ ایسے دل آویز طریق سے تقریر کی کہ اس کا حق اسے دلا دیا۔ اسی