حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 62
حقائق الفرقان ۶۲ سُورَةُ طَهُ مطلب یہ ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے سامری کو فرمایا۔ اے سامری ! تیری یہ بڑی بھاری کارروائی کیوں ہوئی ؟ بولا کہ میں بصیرت حاصل کر چکا ہوں ساتھ ایسے کام کے کہ اس کام کے ساتھ ان لوگوں کو بصیرت نہیں ۔ پھر قبض کر لیا تھا میں نے ایک قبضہ اس رسول کے اثر میں سے۔ پھر پھینک دیا اسے اور اسی طرح یہ کام میری جان نے مجھے بھلا کر دکھایا۔ اس مقام پر تسویل کا لفظ قابلِ غور و تامل ہے۔ التسويل۔ تَزْنِينُ النَّفْسِ لِمَا يَحْرُصُ عَلَيْهِ وَتَصْوِيرُ الْقُبْحِ مِنْهُ بِصُورَةِ الْحُسْنِ۔ قَالَ الله تَعَالَى بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنْفُسُكُمْ أَمْرًا (يوسف : ١٩) تسویل کے معنی ہیں نفس کا اپنی پسندیدہ چیز کو خوبصورت کر دکھانا۔ چنانچہ اس کی گواہی قرآن شریف کی اس آیت سے ملتی ہے۔ جو حضرت یعقوب نے اپنے بیٹوں سے بات کی بلکہ تمہارے نفسوں نے بری بات کو خوبصورت کر دکھایا۔ پس اس آیت کا مطلب صرف اسی قدر ہے کہ جب موسیٰ علیہ السلام نے اس بت پرستی کے بانی سامری سے دریافت فرمایا کہ تو نے یہ کیا کام کیا تو اس نے بتایا کہ میں ایک بصیرت پر ہوں جس بصیرت سے یہ لوگ نا آشنا ہیں میں نے موسی رسول کے احکام سے کچھ مانا ہوا تھا سواب میں اس موسوی مذہب کے مانے ہوئے حصہ کو ترک کر بیٹھا ہوں ۔ (نورالدین بجواب ترک اسلام ۔ کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۲۲۱٬۲۲۰) ۹۸ - قَالَ فَاذْهَبْ فَإِنَّ لَكَ فِي الْحَيُوةِ أَنْ تَقُولَ لَا مِسَاسَ وَ إِنَّ لَكَ مَوْعِدًا لَنْ تُخْلَفَهُ ۚ وَانْظُرُ إِلَى الهِكَ الَّذِى ظَلْتَ عَلَيْهِ عَالِفًا لَنُحَرِّقَنَّهُ ثُمَّ لَنَفْسِفَنَّهُ فِي الْيَمِّ نَسُفًا - ترجمہ ۔ موسیٰ نے کہا چل جا دور ہو۔ زندگی ہی میں تیری یہ سزا ہے کہ تو کہا کرے مجھے ہاتھ نہ لگانا اور البتہ تیرے لئے ایک اور وعدہ ہے کہ جس کا تجھ سے کبھی خلاف نہ ہوگا اور دیکھ تیرے جھوٹے معبود کو جس پر تو جما بیٹھا ہے کہ ہم اس کو ضرور جلائیں گے پھر اس کو بکھیر دیں گے دریا میں اڑا کر ۔ تفسیر - لا مساس ۔ یہ سزا دی ہے کہ جب تو رستے میں چلے تو پوش پوش کہتا جائے ۔ یہ جھوٹی کہانی ہے کہ جو اسے چھوتا اسے محرقہ بخار ہو جاتا۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۰ مورخه ۱۹ رمئی ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۶۸) لے یعقوب نے کہا تمہاری جانوں نے ایک شرارت کی ہے۔