حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 61
حقائق الفرقان ٦١ سُورَةُ طَهُ ۹۵ - قَالَ يَبْنَؤُمَ لَا تَأْخُذُ بِلِحْيَتِى وَ لَا بِرَأْسِي إِنِّي خَشِيتُ أَنْ تَقُولَ فَرَّقْتَ بَيْنَ بَنِي إِسْرَاءِيلَ وَ لَمْ تَرْقُبُ قَوْلي - ترجمہ ۔ کہا اے میری ماں کے بیٹے ! میری داڑھی کو ہاتھ نہ لگا اور نہ میرا سر پکڑ ، میں تو ڈرا تھا اس سے کہ آپ کہیں گے کہ تو نے پھوٹ ڈال دی بنی اسرائیل میں اور میری بات یاد نہ رکھی ۔ تفسير - يبنوم - بہ نسبت باپ کے ماں میں زیادہ محبت و راحت جوش مارتی ہے۔ اس لئے اس سے منسوب کیا تا رحمت کی طرف جھکیں ۔ أَنْ تَقُولَ فَرَّقْتَ ۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہے کہ حضرت علی پر تفرقہ کا الزام غلط ہے اور آپ نے تحکیم جو تسلیم کی تو انہی آیات کے ماتحت (ضمیمہ اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۰ مورخه ۱۹ رمئی ۱۹۱۰ صفحه ۱۶۸) ۹۷،۹۶۔ قَالَ فَمَا خَطْبُكَ يُسَامِرِيُّ - قَالَ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ يَبْصُرُوا بِهِ فَقَبَضْتُ قَبْضَةً مِّنْ أَثَرِ الرَّسُولِ فَنَبَذْ تُهَا وَكَذَلِكَ سَوَّلَتْ لِي نَفْسِي - ترجمہ ۔ موسیٰ نے کہا اے سامری تیرا کیا حال ہے۔ وہ بولا میں نے وہ چیز دیکھی جو اوروں نے نہیں دیکھی۔ میں نے تھوڑا سا شریعت کا حصہ لیا تھا پھر اسے چھوڑ دیا میں نے اور ایسی ہی صلاح دی مجھ کو میرے نفس نے۔ تفسیر - لیسامری ۔ سامرہ ایک قوم کا نام ہے۔ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ يَبْصُرُوا ۔ یعنی میں خوب سمجھتا ہوں ۔ فَقَبَضْتُ قَبْضَةً سَوَّلَتْ لِي نَفْسِی ۔ یعنی میں نے اے رسول (موسی) تیری تعلیم توحید سے کچھ لیا تھا۔ اب میں اسے چھوڑتا ہوں ۔ کیوں؟ میری مرضی ۔ جبرائیل کے گھوڑے کے قدموں کی مٹی لے کر بچھڑا بنانا ایک جھوٹی کہانی ہے۔ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ يَبْصُرُوا ۔ مجھے علم ہے جو تجھے نہیں۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۰ مورخه ۱۹ رمئی ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۶۸) مِّنْ أَثَرِ الرَّسُولِ ۔ رسول کی کچھ متابعت کی پھر چھوڑ دی۔ تشحید الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ - ماہ ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحہ ۴۶۷)