حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 60
حقائق الفرقان ۶۰ سُورَةُ طَهُ الَّا يَرْجِعُ إِلَيْهِمُ - ھم کا مرجع وہ لوگ ہیں جو اس کی محبت میں غرق تھے۔ ( بدر جلد ۱۰ نمبر ۳۵ مورخه ۲۹ جون ۱۹۱۱ ء صفحه ۱) ۹۱، ۹۲ - وَ لَقَدْ قَالَ لَهُمْ هُرُونُ مِنْ قَبْلُ يُقَوْمِ إِنَّمَا فُتِنْتُم بِهِ ۚ وَإِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحْمَنُ فَاتَّبِعُونِي وَأَطِيعُوا اَمْرِى - قَالُوا لَنْ تَبْرَحَ عَلَيْهِ عَكِفِينَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَيْنَا مُوسَى - ترجمہ ۔ اور بے شک ان سے کہا تھا ہارون نے پہلے ہی سے اے میری قوم! اس کے سوا نہیں کہ تم اس سے آزمائے گئے ہو اور تمہارا رب تو رحمن ہے تو تم میری ہی پیروی کرو اور میرے ہی کہنے پر چلو ۔ انہوں نے جواب دیا ہم کبھی نہیں ہٹیں گے اسی پر جمے بیٹھے رہیں گے یہاں تک کہ ہمارے پاس پلٹ آئے موسیٰ ۔ تفسیر فتنتُم ہے۔ برے بھلے کی تمیز کرنے کے لئے یہ ایک ابتلاء آ یا ہے۔ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَيْنَا مُوسی ۔ ہارون بھی رسول نبی تھے اور حضرت موسیٰ بھی۔ مگر ہارون کے سامنے انہوں نے بت پرستی کی۔ رعب ایک البی فضل ہوتا ہے۔ حضرت موسی کا خوف تو ظاہر ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ان کے آنے تک ہم اسی بات پر جمے رہیں گے مگر ہارون کو تو اس فعل میں شریک گردانتے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہارون نے نرمی اختیار کی ۔ اللہ تعالیٰ حضرت ہارون کی بریت ظاہر فرماتا ہے۔ حضرت علی کی نسبت بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسی ۔ چنانچہ آپ کے ساتھ بھی ایسا ہی معاملہ پیش آیا جیسے ہارون کے ساتھ پیر یجو کا معاملہ تھا۔ ایسا ہی حضرت عثمان کے قتل میں حضرت علی کو شریک گردانا گیا۔ مگر آپ کا دامن بالکل پاک تھا۔ ان آیات سے مجھے حضرت علی کی بریت اور حضرت عثمان کے قتل سے بالکل الگ ہونے کا یقین ہے۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۰ مورخه ۱۹ رمتی ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۶۸) اے تیرا میرے بعد وہی مقام ہے جو موسیٰ" کے بعد ہارون کا تھا۔