حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 59 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 59

حقائق الفرقان ۵۹ سُورَةُ طَهُ سامری نے کہا یہ تمہارا اور تمہارے موسیٰ کا معبود ہے تو موسیٰ اس کو بھول گیا ہے ۔ تفسیر - النَّاسُ عَلَى دِينِ مُلُوكِهِمْ - حاکم قوم کا اثر محکوم پر ضرور ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر بال ہی لوسکھوں کے عہد میں لوگ بڑے بڑے بال رکھتے تھے۔ مگر اب قینچی سے ایسے کتراتے ہیں کہ گویا ہیں ہی نہیں ۔ پھر بھی بعض برداشت نہیں کر سکتے ۔ اسی طرح فرعون اور اس کی قوم گائے پرست تھے ۔ اسی لئے اس کا تاج گئو مکھی تھا ۔ بنی اسرائیل پر بھی اس کا اثر ہوا۔ اور اس عظمت کو نکالنے کے لئے حضرت موسی کی معرفت حکم الہی ہوا کہ وہ درشنی گائے ذبح کر دو ۔ اِنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَذْبَحُوا بَقَرَةً (البقرۃ:۶۸) اور اللہ حکم دیتا ہے کہ گائے ذبح کر دو ۔ لوگ رسوم کے بہت تابع ہیں۔ جتنی دولت مند قوم ہے ان کے نزدیک گئو ہتیا حرام ہے۔ ہزاروں لاکھوں بکرے ذبح ہوتے ہیں اور شور نہیں مچاتے برخلاف اس کے گائے پر شور پڑتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ گائے ذبح کرنے کا رواج عام نہیں کیا گیا۔ ( بدر جلد ۱۰ نمبر ۴۴ و ۴۵ مورخه ۵ را کتوبر ۱۹۱۱ ء صفحه (۱۲) ۹۰ - أَفَلَا يَرَوْنَ اَلَّا يَرْجِعُ إِلَيْهِمْ قَوْلًا وَلَا يَمْلِكُ لَهُمْ ضَرًّا وَ لَا نَفْعًا - ترجمہ ۔ بھلا یہ لوگ اتنا بھی نہ دیکھ سکے کہ وہ پلٹا کر جواب بھی تو نہیں دیتا انہیں اور وہ مالک بھی نہیں ان کے کسی نقصان اور نفع کا ۔ تفسیر۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ محض بے جان چیز تھی ۔ اس میں نفع رسانی یا ایذاء دینے کی کوئی طاقت نہ تھی ۔ ( نور الدین بجواب ترک اسلام کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۲۲۰) أَفَلَا يَرَوْنَ أَلَّا يَرْجِعُ ۔ یہ اس کے معبود ہونے کا ثبوت دیا ہے کہ اللہ تو وہ ہے جس کے آگے تم تضرع کرو تو وہ جواب دے۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۰ مورخه ۱۹ رمئی ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۶۸) الَّا يَرْجِعُ إِلَيْهِمُ - الہام کے منکر بھی اپنے خدا کو بچھڑا ہی تجویز کرتے ہیں ۔ تشحید الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ ۔ ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء صفحہ ۴۶۷)