حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 451 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 451

حقائق الفرقان ۴۵۱ سُورَةُ الْأَحْزَابِ دوسرا ایک مطلقہ عورت سے ( جس سے شادی کرنا عرب جاہلیت میں سخت قابل ملامت و نفرت اور ذلت تصور کرتے تھے ) نکاح کرنا۔ مگر چونکہ عقلاً و رسماً و شرعاً یہ افعال معیوب نہ تھے۔ اور ضرور تھا که مصلح و بادی خود نظیر بنے تا کہ تابعین کو تحریک و ترغیب ہو۔ آپ پہلے بے شک بمقتضائے بشریت گھبرائے اور بالآخران مشکلات پر غالب آ کر ایک عجیب نظیر قائم کر دکھلائی۔ وو پادری صاحب کی عقل پر تعجب آتا ہے جو کہتے ہیں " محمدؐ نے لوگوں سے ڈر کر آیت اتار لی“ کون سی آیت اتار لی اور ڈ رہی کیا تھا۔ آنحضرت کو اس بات کا ڈر تھا اور لوگوں کی طرف سے خوف تھا رض کہ دشمن اس بات کا طعنہ دیں گے کہ ان کا اپنے ہاتھ سے کیا ہوا کام انجام کو نہ پہنچا۔ کیونکہ آنحضرت خود اس۔ مزاوجت کے متکفل اور منصرم ہوئے تھے اور بڑے اصرار سے زینب کے وارثوں سے اس کو زید کیلئے مانگا تھا۔ اور اب اس مفارقت پر دشمن طعنہ دے سکتے تھے۔ بیشک اس بات کا آپ کو خوف تھا۔ اور ان کی اس ناچا کی کو وہ اخفا کرنا چاہتے تھے۔ جو بالآخر پھوٹ نکلی ۔ اسی خوف واخفا کی نسبت قرآن کریم فرماتا ہے کہ تو لوگوں سے ڈرتا تھا حالانکہ ڈرنا تو مجھ سے چاہیے۔ یہ ایک عجیب محاورہ قرآنی ہے۔ مطلب ایسے جملے کا یہ ہوتا ہے کہ جو امرحسب مقتضائے قانونِ الہی ہو اس کے اجرا و تعمیل میں انسان سے ڈرنا یعنی اس کا عمل میں نہ لا نا عبث ہے۔ ناقص العقل پادری اتنا بھی خیال نہیں کر سکتے کہ اگر اس عقد میں کوئی امر معیوب اور قادح نبوت ہوتا تو یقیناً اول منکر زید ہوتا۔ حالانکہ بعد ازاں بہت دنوں تک اسلام اور سچے ہادی کی خاطر بڑے ڑے معرکوں اور مہلکوں میں جاں نثاری کرتا رہا۔ اور بڑے کرتا رہا۔ اور بڑے بڑے غیور جری صحابہ (جو یقیناً مچھوؤں اور باج گیروں سے بہت بڑھ کر وقعت وغیرت میں تھے ) جو اسلام کے رکن رکین تھے۔ بہت جلد ہاں اسی دم آپ کے پاس سے ٹوٹ ۔ سے ٹوٹ پھوٹ جاتے اور یہ تانا بانا درہم برہم ہو جاتا۔ میں سچے دل سے کہتا ہوں کہ اس قصے کا ہونا قرآن کے کلام اللہ ہونے کا بڑا بھاری ثبوت ہے اور یہ نبی عرب کی ترکیب و آورد کا ( جیسے منکرین سمجھتے ہیں ) کلام نہیں ۔ کیا امانت کا حق ادا کیا ہے۔ کیا صادق امین ہے که تمام النبی واردات اور ربانی الہامات و واقعات بلا کم و کاست دنیا کے آگے رکھ دیئے ۔ بابی انت و أُمِّي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم - ( فصل الخطاب المقدمه اہل الکتاب حصہ اول صفحه ۱۲۵ تا ۱۲۸)