حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 452
حقائق الفرقان ۴۵۲ سُورَةُ الْأَحْزَابِ لے پالک بنا نا شرع اسلام میں جائز نہیں۔ تو آپ کا اعتراض کیونکر چسپاں ہوگا۔ لے پالک بیٹا حقیقہ بیٹا ہی نہیں اور اس کو بیٹا کہنا سچ نہیں اسی واسطے قرآن نے جو حقیقت کا کا شف ہے اسکو بیٹا کہنا جائز قرار نہیں دیا۔ کیونکہ بیٹا باپ کی جزو ہوتا ہے۔ اور لے پالک غیر اور غیر کی نسل سے ہے۔ مجھے ہمیشہ خیال آتا ہے کہ حقیقی علوم کا معلم نیوگ کو کیونکر جائز کر سکتا ہے۔ کیونکہ نیوگی بیٹا نیوگ کنندہ کا نطفہ اور اسکا جزو ہوتا ہے۔ نیوگ کننده اولاد کا لالچ دے کر لذت ومزہ بھی اٹھا لے اور پھر اپنے بیرج کی اولاد کو دوسرے کے مال و دولت کا مالک بھی بنا لے اور آہستہ آہستہ جوڑ توڑ کر کے آخر عورت بھی اڑا لے۔ اور اپنا ہی بیٹا جائیداد کا مالک کر دے اور پھر عذر کر دے کہ یہ وید کا ارشاد ہے۔ آہ کوئی سمجھنے والا ہو !!۔ پھر اسلام میں لے پالک کی بیوی کیونکر جائز ہو گی ۔ جبکہ لے پالک بنانا ہی جائز نہیں ۔ پھر کسی دوسرے کی بی بی بدوں طلاق کے اور اس کی عدت گزرنے سے پہلے جائز نہیں پھر بدوں نکاح اور گواہوں بلکہ بلا رضا مندی ان والیوں کے جو عورت کے مہتمم ہوں ۔ ہمارے مذہب میں کسی عورت کا بیاہنا جائز نہیں ہاں نیوگ میں یہ سب کچھ ہو سکتا ہے۔ سو وہ ہمارے یہاں ممنوع اور آپ کے یہاں ضروری ہے۔ سوچو اور غور کرو کہ اس خبیث الزام کا نشانہ آریہ سماج کے مطابق وید کا مذہب ہے یا کوئی اور ! خدا تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر ہے کہ اسکا کلام قرآن کریم ہر قسم کے ناپاک الزاموں سے پاک اور ! اس کے غیر ہر طرح کی نجاستوں میں آلودہ ہیں۔ کوئی رشید ہے جو غور کرے!!! ( نورالدین بجواب ترک اسلام کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۳۰۱٬۳۰۰) ۴۰ - الَّذِينَ يُبَلِّغُونَ رِسُلَتِ اللهِ وَيَخْشُونَهُ وَلَا يَخْشَونَ أَحَدًا إِلَّا اللَّهَ وَ كَفَى بِاللهِ حَسِيبًا - ترجمہ ۔ جو لوگ اللہ کے پیغام پہنچاتے رہتے ہیں اور کسی سے نہیں ڈرتے اللہ کے سوائے ۔ اور اللہ کافی ہے حساب لینے والا ۔ فی تفسير - وَلَا يَخْشَوْنَ أَحَدًا إِلَّا الله - وتخشى الناس کے معنے اس آیت سے حل ہوتے ہیں