حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 450 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 450

حقائق الفرقان ۴۵۰ سُوْرَةُ الْأَحْزَابِ قابو مل سکتا تھا۔ اور آپ گوارا نہیں کر سکتے تھے کہ اس مفارقت اور معاشرتی ناچاقی کا حال مخالفین منکرین پر کھلنے پائے جو ان کی زبان درازی اور تعریض کا باعث ہو۔ اور نیز زینب کے وارثوں کا خیال ایک رسمی اور قومی خیال تھا۔ جو آنحضرت کے دل کو اور بھی مضطرب کرنے کا موجب ہو سکتا تھا۔ بنا بر آں آپ نے زید کو بہت روکا۔ اور تلخی معاشرت پر صبر کرنے کی بہت نصیحت و ہدایت کی اور سخت الحاح و اصرار کیا کہ وہ اس ارادے سے باز آجاوے۔ مگر خدا کو ایک عظیم الشان کام پورا کرنا اور ایک خلاف قدرت مصر معاشرت رسم کا توڑ نا منظور تھا ۔ اس موقع پر قرآن کے الفاظ جن میں آنحضرت کی دلی حالت کی تصویر کھینچی گئی ہے۔ الہامی حقیقت پہچاننے والے منصف کے نزدیک قابل غور ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ خصوصا آیت آمسلت الخ "اپنی بی بی کو نگاہ رکھ اور اللہ سے ڈر“ بہت غور کے قابل ہے ” خدا سے ڈر یہ ایسے الفاظ ہیں کہ باز داشت اور زجر کیلئے اس سے زیادہ اور نہیں کہا جا سکتا۔ عیسائیوں کی شوخی اور جرات سخت قابلِ افسوس ہے کہ آنحضرت نے اوپرے دل سے زید کو منع کیا “ (لائف آف محمد از سر ولیم میور صفحہ ۲۲۸) معلوم نہیں صادق دل کے اظہار مافی الضمیر کا اور کیا طریق ہو سکتا ہے۔ کسی سوسائٹی کے رسوم و آئین کی اصلاح میں اگر کسی مصلح کو تکالیف و زحمات اٹھانی پڑتی ہیں تو آنحضرت کو چند در چند صعوبات اٹھانی پڑتیں اور پڑنے والی تھیں جن کے در پیش عرب جیسی غیر مہذب اکھر سوسائٹی کے خلاف قدرت اور مضر معاشرت رسوم کا اصلاح کرنا تھا۔ عرب میں (ہندوؤں کی طرح) متبنی ( منہ بولا بیٹا) صلبی بیٹے کے مانند سمجھا جاتا تھا۔ اس رسم فتیح سے جو نتائج فاسدہ دنیا میں ہوئے اور ہوتے ہیں عیاں ہیں اور حقیقہ قدرت کہاں اجازت دیتی ہے کہ پسر حقیقی اور متبنی دونوں مساوات کا درجہ رکھیں ۔ قرآن نے اس مضر اصل کی بیخ کنی کر دی کہ ” منہ بولے بیٹے تمہارے بیٹے نہیں ہیں ۔ تمہارے بیٹے وہی ہیں جو تمہارے نطفے سے ہیں اب یہاں قوم و ملک کے رسوم کے مخالف دو عظیم مشکلوں کا سامنا آپ کو کرنا پڑا۔ وو ایک تو خدا کے قول و فعل کے مطابق رسم تبنیت کا (کہ وہ حقیقی بیٹے کے مانند ہے ) توڑنا اور