حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 392
حقائق الفرقان ۳۹۲ سُورَةُ لُقُمْنَ یہ جواب جو دیا جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے ان کو علم غیب ۔ ان کو علم غیب یا تصرف دے دیا ہے۔ دے دیا ہے۔ صحیح نہیں کیونکہ شرک کے معنے ہیں ۔ سانجھی ہیں ۔ سانبھی بنانا ۔ خود بن جاوے یا دینے سے بنے ۔ یاد رکھو ۔ ال یا د رکھو ۔ اللہ کا علم ایسا وسیع ہے کہ بشر اس کے مساوی ہو ہی نہیں سکتا۔ جو نشان اللہ تعالیٰ نے اپنی الوہیت کیلئے بطور نشان رکھے ہیں ۔ وہ کسی اور میں نہیں بنانے چاہئیں ۔ بڑا نشان تذلل کا ہے۔ سجدہ اس سے بڑھ کر اور کوئی عاجزی نہیں ۔ زمین پر گر پڑے ۔ اب آگے اور کہاں کدھر جاویں۔ فرماتا ہے لا تَسْجُدُوا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوا لِلَّهِ الَّذِي خَلَقَهُنَّ - (حم السجدہ: ۳۸) پس جو غیر کو سجدہ کرے وہ مشرک ہے۔ قرآن شریف نے ایک اور شرک کی طرف بھی توجہ دلائی ہے۔ وہ یہ ہے کہ وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يَتَّخِذُ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَنْدَادًا يُحِبُّونَهُمْ كَحُبِ اللهِ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ ( البقرة : ١٦٦) یعنی جیسا پیار اللہ سے کرتے ہو۔ یہ کسی اور سے کرنا خدا کا شریک بنانا ہے۔ وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يَتَّخِذُ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَنْدَادًا - ند بنانا یوں ہے کہ مثلاً ایک طرف آواز آ رہی ہے حَيَّ عَلَی الْفَلَاحِ ہے اور دوسری طرف کوئی اپنا مشغلہ۔ جس کو نہ چھوڑا تو یہ بھی شرک ہے۔ اسی سلسلہ میں آخری شرک کا نام لیتا ہوں اور وہ ریا ہے۔ اس سے بچنا چاہیے۔ حضرت صاحب سے مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم نے پوچھا تو آپ نے فرمایا۔ جیسا تم لوگوں کو کسی گھوڑی وغیرہ کے سامنے ریا نہیں آ سکتا ۔ اسی طرح مامورانِ الہی کو لوگوں کے سامنے ریا نہیں آتا ۔ ان تمام مشرکوں کا رڈ اسی کلمہ طیبہ میں ہے۔ جو بہت چھوٹا ہے۔ مگر بہت عظیم ۔ اور میرا ایمان ہے کہ أَفْضَلُ الذِّكْرِ لَا إِلَهَ إِلَّا الله اور اس لا إِلَهَ إِلَّا الله کے ساتھ توحید کامل نہ ہوتی اگر اس کے ساتھ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ نہ ہوتا کیونکہ دنیا نے بادیوں کو خدا کہنا بھی شروع کر دیا۔ چنانچہ حضرت عیسی جیسے عاجز اور خاکسار انسان کو خدا بنایا گیا ۔ کرشن جیسے خدا کے محب کو بھی ایسا ہی سمجھا گیا۔ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جہاں ہم پر اور احسان کئے وہاں یہ بھی کہا کہ لا الہ الا اللہ کے ساتھ ا تم سجدہ کرو سورج کو نہ چاند کو اور سجدہ کرو اللہ ہی کو جس نے ان کو پیدا فرمایا۔ ۲ اور آدمیوں میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو اللہ کے جیسا اوروں کو بھی ٹھہراتے ہیں ( ان غیروں کو ) ایسا چاہتے ہیں جس طرح اللہ سے محبت رکھنی چاہیے اور ایمانداروں کو تو ( سب سے بڑھ کر ) اللہ ہی کی محبت ہوتی ہے۔