حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 391 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 391

حقائق الفرقان ۳۹۱ سُوْرَةُ الْقُمْنَ ہوا کہ اللہ کے ساتھ کسی کو جوڑی نہ بناؤ۔ ایک مقام پر فرمایا ہے۔ ثُمَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ (الانعام:(۲) کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے برابر اس کی ذات میں کسی دوسرے کو بھی مانتا ہو۔ یہ شرک میں نے کسی سے نہیں سنا۔ ثر نوی ایک فرقہ ہے جو کہتے ہیں ۔ دنیا کے دو خالق ہیں۔ ایک ظلمت کا، ایک نور کا مگر برابر وہ بھی نہیں کہتے۔ خدا نے فرمایا کہ آمَنْ خَلَقَ السَّبُواتِ وَالْأَرْضَ (النمل: ۶۱) تو کفار مکہ جو بڑے مشرک تھے۔ انہوں نے بھی کہا ۔ اللہ ۔ اسی طرح ان کے جاہلیت کے شعروں میں اللہ کا لفظ کسی اور پر نہیں بولا گیا۔ پھر شرک کیا ہے۔ جس کے واسطے قرآن شریف نازل ہوا سنو ! دوسرا مرتبہ صفات کا ہے اللہ تعالیٰ ازلی ابدی ہے۔ سب چیزوں کا خالق ہے۔ وہ غیر مخلوق ہے۔ پس یہ صفات کسی غیر کے لئے بنانا شرک ہے۔ آریہ قوم نے پانچ از لی مانے ہیں (۱) اللہ قدیم از لی ہے (۲) روح از لی ہے (۳) مادہ از لی ہے۔ (۴) زمانہ ازلی ہے (۵) قضاء از لی ہے۔ جس میں یہ سب چیزیں رکھی ہیں۔ اس واسطے یہ قوم مشرک ہے۔ عیسائی قوم نے کہا ہے کہ بیٹا از لی ہے باپ از لی ہے۔ روح القدس از لی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللهَ ثَالِثُ ثَلَثَةٍ (1) (المائدة: ۷۴) سے ۔ سے ایک قوم ہے جو اللہ تعالیٰ کے علم میں اور تصرف میں کسی مخلوق کو بھی شریک بناتی ہے۔ بدبختی سے مسلمانوں میں بھی ایسا فرقہ ہے جو کہ پیر پرست ہے حالانکہ رسول کریم سے بڑھ کر کوئی نہیں اور وہ فرماتا ہے۔ لا أَعْلَمُ الْغَيْبَ - (الانعام : ۵۱) اور لَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَا سَتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَ مَا مَسَّنِيَ السُّوءُ (الاعراف: ۱۸۹) پس کسی اور ولی کو کبھی یہ قدرت حاصل ہو سکتی ہے کہ اسے جانی جان کہا جاوے اور یہ سمجھا جاوے کہ وہ حاضر و غائب ہماری پکار سنتے ہیں ۔ اے بھلا کس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو ۔ ۲۔ البتہ البتہ کافر ہو گئے جنہوں نے کہا اللہ تین میں کا تیسرا ہے۔ سے میں بڑا غیب کا جاننے والا ہوں ۔ ہے اگر میں بڑا غیب دان ہوتا تو میں اپنے لئے بہت سی نیکیاں جمع کر لیتا اور مجھے کبھی کوئی تکلیف نہیں پہنچتی ۔