حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 363 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 363

حقائق الفرقان ۳۶۳ سُورَةُ الْعَنْكَبُوتِ وَ الَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنا ۔ یعنی جو لوگ ہم میں ہو کر مجاہدہ اور سعی کرتے ہیں۔ ہم ان پر اپنی راہیں کھول دیتے ہیں ۔ یہ کیسی سچی اور صاف بات ہے۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ کیوں اختلاف کے وقت انسان مجاہدات سے کام نہیں لیتا ۔ کیوں ایسے وقت انسان دبدھا اور تردد میں پڑتا ہے۔ اور جب یہ دیکھتا ہے کہ ایک کچھ فتوای دیتا ہے اور دوسرا کچھ تو وہ گھبرا جاتا اور کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا۔ کاش وہ جَاهَدُوا فِينَا کا پابند ہوتا تو اس پر سچائی کی اصل حقیقت کھل جاتی ۔ مجاہدہ کے ساتھ ایک اور شرط بھی ہے وہ تقوی کی شرط ہے۔ تقوی کلام اللہ کیلئے معلم کا کام دیتا ہے۔ الحکم جلدے نمبر ۲ مورخہ ۱۷ جنوری ۱۹۰۳ ء صفحہ ۱۵) وَ الَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنكبوت : ۷۰) جو لوگ ہم میں ہو کر مجاہدہ کرتے ہیں ہم ان پر اپنی راہیں کھول دیتے ہیں۔ غرض قرآن شریف کے سیکھنے کے لئے تزکیہ، تقوی اللہ اور مجاہدہ ضروری ہے۔ اب یہ بات کہ قرآن شریف کی آیت لکھ کر مٹھی میں رکھ کر سو ر ہنے سے اس کا مطلب حل ہو جاتا ہے کیا ان امور سے منافی اور متناقض ہے اور کوئی ایسا آدمی جو متقی نہ ہو محض اسی صورت سے قرآن شریف سیکھ سکتا ہے؟ ایسا سوال کرنے سے پہلے یہ دیکھ لینا ضروری ہے کہ کیا کوئی فاسق ، فاجر قرآن شریف کے مطالب کے سمجھنے کے لئے کوشش کرے گا؟ قرآن شریف کے سمجھنے کا شوق اور محبت تو اسی کے دل میں پیدا ہو گی جو متقی ہو اور مجاہدہ کرنے والا ہو۔ سگ را به مسجد چه کار ۔ فاسق کو قرآن شریف سے کیا تعلق اور محبت ؟ پس جو شخص متقی اور پاکباز ہوگا وہی سعی کرے گا کہ اس پر قرآن شریف کے اہم امور کھل جائیں اور یہ طریق کہ کاغذ پر آیت لکھ کر مٹھی میں لے کر سو جائیں یہ کوئی شعبدہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک فطرتی اصل ہے جو انسان کے اندر موجود ہے اس سے صرف توجہ کا اس طرف مبذول کرنا مقصود ہے جو شخص سوتے جاگتے اٹھتے بیٹھتے قرآن شریف کا دھیان رکھے گاوہ وَ الَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنا کے نیچے کام کرتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ اس پر کشف حقائق کر دیتا ہے۔ اے کتے کا مسجد سے کیا کام؟ الحکم جلدے نمبر ۱۵ مورخہ ۱/۲۴ پریل ۱۹۰۳ صفحه ۴، ۵ )