حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 362 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 362

حقائق الفرقان ۳۶۲ سُورَةُ الْعَنْكَبُوتِ خدا تعالیٰ اور اس کی پاک کتاب پر رکھتے ہیں۔ میں نے دیکھا ہے کہ قرآن شریف کا علم صرف و نحو کی کتابوں کے رٹنے پر موقوف نہیں ہے۔ بدیع و معانی قرآنی علوم و حقائق کیلئے لازمی طور پر پڑھنے ضرور نہیں ہیں۔ یا دوسرے علوم کے بغیر قرآن شریف کا سمجھ میں آنا نا ممکن نہیں ہے۔ یہ خیالی باتیں ہیں۔ اس قدر تو میں بے شک مانتا ہوں کہ جس قدر علوم حقہ سے انسان واقف ہوگا۔ اور ان علوم میں جو قرآن کریم کے خادم ہیں۔ دسترس رکھتا ہو گا۔ وہ اس کے فہم قرآن میں ایک ممد و معاون ہوں گے۔ لیکن اسی صورت میں کہ اس کا مجاہدہ مجاہدہ صحیح ہوگا۔ مجاہدہ صحیحہ کی تشریح بہت بڑی ہو سکتی ہے۔ مگر مختصر طور پر یاد رکھو کہ قرآن شریف پڑھو اس لئے کہ اس پر عمل ہو۔ ایسی صورت میں اگر تم قرآن شریف کھول کر اس کا عام ترجمہ پڑھتے جاؤ اور شروع سے اخیر تک دیکھتے جاؤ کہ تم کسی گروہ میں ہو کیا مُنْعَمُ عَلَيْهِمْ ہو یا مغضوب ہو یا ضالین ہو اور کیا بننا چاہیے۔ مُنْعَم عَلَيْهِم بننے کے لئے سچی خواہش اپنے اندر پیدا کرو۔ پھر اس کیلئے دعائیں کرو۔ جو طریق اللہ تعالیٰ نے انعام النبی کے حصول کے رکھے ہیں ۔ ان پر چلو اور محض خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے واسطے چلو۔ اس طریق پر اگر صرف سورہ فاتحہ ہی کو پڑھ لوتو میں یقینا کہتا ہوں کہ قرآن شریف کے نزول کی حقیقت کو تم نے سمجھ لیا اور پھر قرآن شریف کے مطالب و معانی پر تمہیں اطلاع دینا اور اس کے حقائق و معارف سے بہرہ ور کرنا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے اور یہ ایک صورت ہے مجاہدہ صحیحہ کی ۔ الحکم جلد ۸ نمبر ۱۳ مورخہ ۲۴ را پریل ۱۹۰۴ ء صفحه ۱۲) وَ الَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنا - جب اللہ تعالیٰ میں ہو کر انسان مجاہدہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی راہیں اس پر کھول دیتا ہے۔ پھر سچے علوم سے معرفت نیکی اور بدی کی پیدا ہوتی ہے اور خدا کی عظمت و جبروت کا علم ہوتا ہے۔ اور اس سے سچی خشیت پیدا ہوتی ہے۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۴ مورخه ۳۱ جنوری ۱۹۰۲ء صفحہ ۷ ) کتاب اللہ پر ایمان بھی اللہ کے فضل اور ملائکہ ہی کی تحریک سے ہوتا ہے۔ اللہ کی کتاب پر عمل درآمد جو سچے ایمان کا مفہوم اصلی ہے چاہتا ہے محنت اور جہاد۔ چنانچہ فرمایا۔