حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 351
حقائق الفرقان ایک بات پر ٹھہرتے نہیں۔ ۳۵۱ سُورَةُ الْعَنْكَبُوتِ ایک دہریہ نے مجھے کہا کہ انسان گن ، کرم ، سبھاؤ دریافت کرلے تو پھر وہ کھلا دہر یہ ہو سکتا ہے میں نے اسے پوچھا کہ فلاں چیز کا گن کرم سبھاؤ کیا ہے۔ اس نے جھٹ گن دیئے۔ میں نے تھوڑی دیر بعد پوچھا۔ ہاں جی ۔ آپ نے کیا فرمایا تھا۔ پھر جو بتایا تو کچھ اور ہی بک دیا۔ تھوڑی دیر بعد پھر ایک رنگ میں پوچھا تو کچھ اور ہی کہہ دیا۔ میں ساتھ ساتھ لکھتا گیا۔ جب اس نے معلوم کیا کہ یہ میری کمزوری کو تاڑ گیا۔ تو بہت ہی نادم ہوا ۔ ایک اور شخص آیا۔ اس نے بڑے دعوے سے کہا۔ میں بحث کرنا چاہتا ہوں۔ تین گھنٹے وقت لوں گا۔ میں نے کہا کہ بہت اچھا۔ اس نے کہا کہ مسئلہ تناسخ پر بحث ہوگی ۔ میں نے جیب سے دو روپے ملکہ کے بت کے نکالے اور کہا۔ ایک کو اٹھا لو۔ تو وہ خاموش رہ گیا۔ اور پھر نہ بولا ۔ اسکی وجہ یہ تھی۔ کہ اگر وہ کہتا کہ میں نہیں اٹھا سکتا تو یہ جھوٹ تھا۔ اور اگر ایک اٹھا تا تو پھر اس پرسوال ہوتا کہ دوسرے کو کیوں نہ اٹھایا ۔ جواب دینا پڑتا۔ میرا اختیار ! پس کسی کو امیر - کسی کو غریب یا کسی کو بینا کسی کو نابینا بنانے کا بھی یہی جواب تھا کہ خدا کا اختیار تناسخ والے تو اس کو تناسخ کا ثبوت قرار دیتے ہیں۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۴۳ مورخه ۱۸ اگست ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۹۶ ) كَمَثَلِ الْعَنْكَبوتِ - مباحثہ میں ایک رنگ پر نہ رہنے والا آدمی جھوٹے مذہب کا پیرو ہوتا ہے۔ تشحیذ الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ ماه ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۴۷۲) وَتِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ وَمَا يَعْقِلُهَا إِلَّا الْعَلِمُونَ - ترجمہ ۔ اور یہ مثالیں ہم بیان فرماتے ہیں عام لوگوں کے لئے اور ان کو سمجھتے تو وہی ہیں جن کو علم ہے۔ تفسیر اور ہم یہ مثالیں لوگوں کے لئے بیان کرتے ہیں اور انہیں عالم عالم ہی سمجھتے ہیں۔ ( نورالدین بجواب ترک اسلام - کمپیوٹرائزڈ ایڈیشن صفحہ ۱۶)